بجلی کے نرخ میں 20 روپے فی یونٹ کمی کا امکان، سفارشات حکومت کو پیش

اسلام آباد: نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 20 روپے فی یونٹ کمی کے لیے تجاویز حکومت کو ارسال کر دی ہیں۔ ان تجاویز میں مختلف سرچارجز اور اضافی چارجز میں کمی کرنے کے فارمولے شامل ہیں جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے نرخ میں کمی کے لیے “بیلنس آف ٹیرف” کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، فی یونٹ کپیسٹی چارجز اور مختلف سرچارجز پر نظر ثانی کرکے بھی قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں۔

دستاویز کے مطابق، بجلی کی موجودہ قیمت 45 روپے 6 پیسے فی یونٹ ہے، جس میں 17 روپے 1 پیسے فی یونٹ کپیسٹی چارجز شامل ہیں۔ مزید یہ کہ، بجلی کی قیمت میں 15 روپے 28 پیسے فی یونٹ مختلف ٹیکسز اور سرچارجز کا حصہ ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 3 روپے 10 پیسے ڈسٹری بیوشن مارجن وصول کرتی ہیں، جبکہ ایک روپے 37 پیسے فی یونٹ ٹرانسمیشن چارجز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ 9 مئی 2023ء کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان

پیداواری قیمت اور دیگر چارجزنیپرا کے مطابق، بجلی کی خالص اوسط پیداواری لاگت 7 روپے 62 پیسے فی یونٹ ہے۔ اضافی چارجز اور ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے سے بجلی کی قیمت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر 7 روپے 52 پیسے کے سرچارجز اور 67 پیسے ایڈجسٹمنٹ ختم کر دیے جائیں تو بجلی کی قیمت 45 روپے 6 پیسے سے کم ہو کر 25 روپے 20 پیسے فی یونٹ رہ جائے گی۔

نیپرا کی دستاویز میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اضافی اخراجات ختم کرنے اور آپریشنل خامیوں کو بہتر بنانے سے بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ اس عمل سے بجلی کا نرخ 20 روپے 4 پیسے فی یونٹ تک کم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ تجاویز عوام کے لیے ریلیف فراہم کر سکتی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ عوام نے اس پیش رفت پر امید ظاہر کی ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل کیا گیا تو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو ریلیف ملے گا۔یہ منصوبہ اگر حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو یہ عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت ان تجاویز پر کب اور کس حد تک عمل کرتی ہے۔

editor

Related Articles