قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے حج سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف قیاس آرائیوں پر اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ وسیم اکرم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا یہ روحانی سفر مکمل طور پر ذاتی فیصلہ تھا اور اس میں کسی قسم کی افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کی کوئی حقیقت نہیں۔
وسیم اکرم نے اس سال سابق کپتان مصباح الحق اور معروف ٹی وی میزبان و گلوکار فخرِ عالم کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر ان کی مختلف تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں وہ مناسکِ حج ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔ ایک ویڈیو میں انہیں شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے بھی دیکھا گیا جو خاص طور پر صارفین کی توجہ کا مرکز بنی۔
سوشل میڈیا پر ان کے حج کے حوالے سے مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں تاہم وسیم اکرم نے ان تمام باتوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ سفر کسی کے کہنے یا کسی بیرونی فیصلے کے تحت نہیں بلکہ ان کی اپنی اندرونی کیفیت اور روحانی احساس کا نتیجہ تھا۔
اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ الحمدللہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا۔ بہت سے لوگوں نے قیاس و گمان کیا کہ یہ سفر کس نے کروایا اور کیسے ہوا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا خالصتاً ذاتی فیصلہ تھا۔ میں نے اپنے دل میں ایک روحانی منزل پائی تھی جہاں حج کی ادائیگی ضروری محسوس ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدس سفر ان کے لیے زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق حج نے ان کی روح میں ایک نئی روشنی اور سکون پیدا کیا ہے جو ہمیشہ قائم رہے گی۔ وسیم اکرم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دیگر مسلمانوں کو بھی اس مقدس فریضے کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ بھی اس روحانی سکون اور برکت سے فیضیاب ہو سکیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ حج ایک ایسا عظیم فریضہ ہے جو انسان کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے اور اس کے دل میں عاجزی صبر اور شکر کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔