سائنس دانوں نے سمندر کی گہرائیوں میں پائے جانے والے ایک منفرد اور ننھے نیلے آکٹوپس کو باضابطہ طور پر ایک نئی نسل قرار دے دیا ہے، جس نے سمندری حیات کے ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
“مائیکرو ایلیڈون گیلا پیگنسِس” نامی یہ آکٹوپس پہلی بار 2015 میں گیلاپیگوس جزائر کے قریب ایک تحقیقی مشن کے دوران دریافت ہوا تھا۔ اس کی غیرمعمولی شکل، چمکدار نیلا رنگ اور انتہائی چھوٹا سائز اسے دیگر آکٹوپس سے منفرد بناتا ہے۔
یہ حیران کن مخلوق تحقیقی جہاز ’ای وی نوٹلس‘ کے مشن کے دوران سامنے آئی۔ مشن کے دوران سمندر کی تہہ کا جائزہ لینے کے لیے ایک ریموٹ کنٹرول روبوٹ روانہ کیا گیا تھا، جو ڈارون جزیرے کے قریب زیرِ آب پہاڑی علاقے کی کھوج میں مصروف تھا۔
تحقیق کے دوران تقریباً 5800 فٹ گہرائی میں روبوٹ کے کیمرے نے ایک ننھے نیلے آکٹوپس کی تصاویر اور ویڈیو ریکارڈ کیں۔ ماہرین نے بعد میں اس نمونے کو حاصل بھی کر لیا، جبکہ اسی نوع کے مزید دو آکٹوپس کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔
سائنس دانوں کے مطابق مہم کے دوران متعدد سمندری جانداروں کے نمونے جمع کیے گئے، تاہم گالف بال کے سائز کے برابر یہ چمکتا ہوا نیلا آکٹوپس سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی نسل کی باضابطہ شناخت سمندری حیاتیات کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو سمندر کی گہرائیوں میں موجود پراسرار حیات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔
یہ دریافت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ زمین کے سمندروں میں اب بھی بے شمار ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کے بارے میں انسان بہت کم جانتا ہے۔