پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی مزید توسیع کو بغیر ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام صوبے کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزیر خزانہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں واضح کہا گیا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا موجودہ شکل میں جاری رہنا آئینی دفعات اور وفاقیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایوارڈ کی توسیع کے لیے جاری کردہ صدارتی احکامات کو غیر آئینی اور امتیازی قرار دیا۔
20 جنوری 2025 کو وزیر اعلیٰ نے ایک سنگین آئینی مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حصے کو درست طور پر این ایف سی ایوارڈ کے فریم ورک میں شامل کرنے کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد۔
خط میں کہا گیا کہ اس انضمام نے صوبے کی جغرافیائی اور آبادیاتی تشکیل کو بدل دیا ہے۔ تاہم ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے اس تبدیلی کو تسلیم کرنے میں ناکامی دکھائی ہے، جس کے نتیجے میں 64 لاکھ باشندوں کو قومی وسائل میں ان کے جائز حصے سے محروم کر دیا گیا
وزیر اعلیٰ نے مزید وضاحت کی کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو 2019 سے 2024 تک این ایف سی کا حصہ 14.62 فیصد کی شرح سے دیا، جس سے صوبے کو 3046 ارب روپے ملے، جب کہ ترمیم شدہ شیئر کے مطابق صوبے کا حصہ 19.64 فیصد ہونا چاہیے، جس کا مطلب 4092 ارب روپے بنتا ہے۔ اس حساب سے، خیبر پختونخوا کو 6 سال میں 1046 ارب روپے کا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مالی خسارہ صوبے کی ترقیاتی ضروریات اور خاص طور پر انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کے لیے سنگین مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔