ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چا ہتے ہماری ترجیح تہران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کرناہے، ٹرمپ

ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چا ہتے ہماری ترجیح تہران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کرناہے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ اکاؤنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف قومی اور بین الاقوامی معاملات پر اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ٹرمپ اکاؤنٹ کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ مائیکرون کمپنی نے اس منصوبے کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ چار برس کے اندر امریکی اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی، تاہم یہ ہدف ایک سال کے اندر ہی حاصل ہو گیا امریکی معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امریکی فوج کا کوئی مقابلہ نہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں اس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوا، جبکہ ایران کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران عسکری لحاظ سے کمزور ہوا ہے اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کے روس اور یوکرین کے صدور سے ٹیلیفونک رابطے، یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ اس کی ترجیح تہران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کرنا ہے ایران کے ساتھ معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور سفارتی حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

روس اور یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک اب جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں ان کا کہنا تھا کہ آئندہ نیٹو اجلاس میں بھی اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوگی اور وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پیش رفت ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اس وقت دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاک بھارت کشیدگی بھی شامل تھی، پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال کسی بھی وقت ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی، تاہم ان کی کوششوں سے کشیدگی میں کمی آئی۔

تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے فیفا کے ایک فیصلے پر بھی تبصرہ کیا، انہوں نے کہا کہ ایک امریکی کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجنا غیر منصفانہ تھا کیونکہ ان کے بقول اس نے کوئی غلط کھیل پیش نہیں کیا تھا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر فیفا کے صدر سے بات کی اور فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے فیفا کو کوئی حکم نہیں دیا بلکہ حتمی فیصلہ متعلقہ کمیٹی نے خود کیا، جسے انہوں نے بہتر فیصلہ قرار دیا۔

editor

Related Articles