تیل کی قیمتوں میں بڑا دھماکا، عالمی بینک کی وارننگ نے دنیا کو ہلا دیا

تیل کی قیمتوں میں بڑا دھماکا، عالمی بینک کی وارننگ نے دنیا کو ہلا دیا

عالمی بینک نے اپنی نئی کموڈیٹی مارکیٹس آوٹ لک رپورٹ 2026 میں خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد ایک بار پھر بلند ترین سطح کی طرف جا سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر خطے میں تنازع طویل ہوا تو خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔ عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جس کے اثرات دنیا بھر کی منڈیوں پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں 16 سے 24 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ایندھن مہنگا ہوگا بلکہ بجلی ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے ایران کی نئی شرائط مسترد کر دیں،امریکی وزیر خارجہ مارکو ربیو نے سخت ردعمل بھی دے دیا

ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ عالمی معیشت میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے جس سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں سیاسی و عسکری تناؤ کم نہ ہوا تو توانائی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے جس کے اثرات عالمی اقتصادی استحکام اور مالی منڈیوں پر طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

editor

Related Articles