فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے لبنانی عسکری سربراہ جنرل روڈولف ہائکل کی جی ایچ کیو میں اہم ملاقات

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے لبنانی عسکری سربراہ جنرل روڈولف ہائکل کی جی ایچ کیو میں اہم ملاقات

پاکستان اور لبنان کی عسکری قیادت نے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے نازک سیکیورٹی حالات کے تناظر میں دوطرفہ عسکری روابط کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’یہ اہم پیش رفت لبنانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہائکل کے دورہ پاکستان کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں پاکستانی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کی ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دعوت پر لبنان کے آرمی چیف دورہ پاکستان کیلئے روانہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لبنانی کمانڈر ان چیف جنرل روڈولف ہائکل کی جی ایچ کیو آمد پر ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں روایتی انداز میں ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا۔ مہمان عسکری سربراہ نے یادگارِ شہدا پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

اس کے بعد ہونے والی ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات انتہائی اہم نوعیت کی تھی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال، تربیتی تعاون اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو بڑھانے کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر لبنان کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور برادرانہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور واضح کیا کہ پاکستان آرمی خطے میں امن کے قیام اور برادر ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران لبنانی آرمی چیف جنرل روڈولف ہائکل نے پاک افواج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے علاقائی امن و استحکام اور عالمی امن مشنز میں پاک افواج کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے عسکری روابط ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔

مزید پڑھیں:ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترک ہم منصب سے رابطہ، اہم امور پر گفتگو

پاکستان اور لبنان کے درمیان تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں، جو ہمیشہ باہمی احترام اور اسلامی و ثقافتی رشتوں پر استوار رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں لبنان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت انتہائی حساس رہی ہے اور حالیہ برسوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، غزہ کی صورتحال اور لبنان کی سرحدوں پر جاری سیکیورٹی چیلنجز نے عالمی برادری کی توجہ مبذول کر رکھی ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز (یونیسف) کے تحت پاکستانی امن دستوں نے ماضی میں لبنان میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے خدمات سرانجام دی ہیں، جنہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کو سیکیورٹی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے اور لبنانی فوج کو اپنی دفاعی و تربیتی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پاکستان جیسے تجربہ کار دوست ملک کے تعاون کی ضرورت ہے۔

مشرقِ وسطیٰ پر پاکستان کا گہرا اثر و رسوخ

لبنانی آرمی چیف کا پاکستان کا دورہ اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات یہ ثابت کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک علاقائی تنازعات کے حل اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی عسکری سفارت کاری اور حکمت عملی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔

دفاعی اور تربیتی تعاون کی منتقلی

لبنان اس وقت معاشی اور اندرونی سیکیورٹی کے دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان آرمی کا گوریلا جنگ، انسدادِ دہشتگردی اور انٹیلیجنس شیئرنگ میں وسیع تجربہ ہے۔

اس ملاقات کے نتیجے میں لبنانی فوج کے افسران کو پاکستانی عسکری اداروں (جیسے پی ایم اے کاکول یا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی) میں اعلیٰ سطح کی تربیت فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

پیشہ ورانہ روابط کی مضبوطی

 دونوں افواج کے درمیان ادارہ جاتی روابط بڑھانے کے اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مشترکہ عسکری مشقیں، وفود کے تبادلے اور دفاعی پیداوار (ملٹری ہارڈ ویئر) کے شعبے میں تعاون بڑھ سکتا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے بھی سودمند ہوگا۔

امن کے عزم کا اعادہ

 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیان پاکستان کی اس اصولی پالیسی کا تسلسل ہے کہ پاکستان کسی بھی علاقائی تنازع کا حصہ بننے کے بجائے مسلم امہ کے درمیان اتحاد، امن اور استحکام کے لیے ایک مصلح اور معاون کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

Related Articles