مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایران نے سفارتی رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے مختلف ممالک کی قیادت سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکی کے وزیر خارجہ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے فرانسیسی اور قطری وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا جس کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، سلامتی کے امور اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان رابطوں میں اسرائیل کے خلاف ایران کے ممکنہ ردعمل خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی اثرات پر گفتگو کی گئی۔ مختلف ممالک کے درمیان جاری سفارتی مشاورت کا مقصد موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کرنا ہے۔
ایران کی جانب سے ترکی، پاکستان، قطر اور فرانس سمیت مختلف ممالک سے رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر اپنے مؤقف سے متعلق اہم شراکت داروں کو اعتماد میں لے رہا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب اور قطر کے درمیان بھی اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ہوا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی اور قطری وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال، علاقائی امن و استحکام اور موجودہ چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف شہروں، جن میں تہران، تبریز، اصفہان اور کرج شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد خطے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔