پارہ 42 ڈگری تک جانے کا امکان، بارش کی بھی پیش گوئی، مگر کب؟

پارہ 42 ڈگری تک جانے کا امکان، بارش کی بھی پیش گوئی، مگر کب؟

پاکستان کے بیشتر میدانی اور ساحلی علاقے اس وقت شدید ترین گرمی، لو اور حبس کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں گرمی کی یہ شدید لہر برقرار رہے گی، تاہم گرمی کے ستائے ہوئے شہریوں کے لیے کچھ علاقوں سے بادل برسنے کی نوید بھی سامنے آئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے آج کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی کل سے بادل برسنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ ، پنجاب، کشمیر ، کے پی کے ، محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جہاں آج دوپہر کے وقت درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب شمالی علاقوں خصوصاً گلگت بلتستان میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی سورج کے تیور انتہائی سخت ہیں اور دن کے وقت شدید لو چل رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کا کم سے کم درجہ حرارت 32 جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔

شہر میں ہوا کی رفتار 5 کلومیٹر فی گھنٹہ انتہائی سست رہنے اور ہوا میں نمی کا تناسب 50 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ تاہم لاہوریوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ جمعرات کے روز شہر میں بادل برسنے کی قوی امید ہے۔

ساحلی شہر کراچی اس وقت گرمی کے ساتھ ساتھ شدید ترین حبس کے دہرے عذاب کی لپیٹ میں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، شہرِ قائد کا موجودہ درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ رات کا کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری رہا۔ آج دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اگرچہ شہر میں جنوب مغرب کی سمت سے 18 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سمندری ہوائیں چل رہی ہیں، لیکن ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد کی انتہائی بلند سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث گرمی کا انڈیکس (فیلز لائیک) بہت زیادہ ہے اور شدید حبس محسوس کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو کا امکان، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا

مزید برآں کراچی کا فضائی معیار (ایئر کوالٹی انڈیکس) بھی انتہائی مضرِ صحت سطح پر پہنچ چکا ہے اور فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار 100 پارٹیکیولیٹ میٹرز سے تجاوز کر چکی ہے۔ طبی ماہرین اور محکمہ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کرنے اور گرمی و آلودگی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

پاکستان گزشتہ چند سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے زیرِ اثر دنیا کے چند متاثرہ ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

ہر سال اپریل اور جون کے مہینوں میں میدانی علاقوں میں ہائی پریشر زون بننے کی وجہ سے درجہ حرارت اوسطاً 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک عام بات ہو چکی ہے۔

سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے باعث کراچی جیسے ساحلی شہروں میں سمندری ہواؤں کے باوجود ‘ہمیڈٹی’ (نمی) کا تناسب بڑھ جاتا ہے، جس سے ‘ہیٹ ویو’ جیسی خطرناک صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں کنکریٹ کے بڑھتے ہوئے ڈھانچے، درختوں کی کٹائی اور گاڑیوں کے دھوئیں نے ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا روپ دھار لیا ہے، جس کی وجہ سے فضا میں آلودہ ذرات جمع ہو کر فضائی معیار کو تباہ کر دیتے ہیں۔

 حالیہ گرمی کی لہر بھی اسی موسمیاتی تبدیل کا تسلسل ہے، جہاں مغربی ہواؤں کا ایک کمزور سلسلہ بالائی علاقوں (کشمیر اور خیبر پختونخوا) کو متاثر کر رہا ہے، اور اسی کے اثرات کے تحت کل جمعرات کو لاہور سمیت پنجاب کے بعض حصوں میں پری مون سون بارشوں کا آغاز متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ موسمیات نے جون 2026 کے لیے موسمی صورتحال کا جائزہ جاری کردیا

کراچی میں درجہ حرارت 39 ڈگری اور نمی 79 فیصد ہونا ایک خطرناک امتزاج ہے۔ جب نمی اتنی زیادہ ہو، تو انسانی جسم سے پسینہ خشک نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں ‘ہیٹ اسٹروک’ (لو لگنے) کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ کو فوری طور پر شہر بھر میں ‘ہیٹ اسٹروک ریلیف کیمپس’ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles