ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے بعد تیل کی عالمی مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جہاں آج جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے جنگ بندی کے مستقبل اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق خدشات کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 101.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 95.66 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ابتدائی کاروبار کے دوران دونوں بینچ مارکس میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر آبنائے ہرمز میں حملوں کا الزام عائد کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
ایران نے امریکا پر الزام لگایا کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی آئل ٹینکر، ایک جہاز اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔
اس کشیدگی کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، تاہم مارکیٹ میں اس بیان کے باوجود بے یقینی برقرار رہی۔
بین الاقومی تیل مارکیٹ کے تجزیاتی ادارے ’وانڈا انسائٹس‘ کی بانی وندانا ہری کا کہنا کہ مارکیٹ مکمل ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر کھڑی ہے، قیمتوں کا تعین اب جنگ کی حقیقی صورتِ حال یا آبنائے ہرمز میں زمینی حقائق کے بجائے غیر یقینی سیاسی اشاروں پر ہو رہا ہے۔