وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ یا کمی سے متعلق فیصلہ وزارت پیٹرولیم کرے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حتمی اعلان متعلقہ وزارت ہی کرے گی اور عالمی مارکیٹ میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو مدِنظر رکھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، ملکی معاشی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کا سلسلہ جاری ہے.
ان کاکہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، تاہم وزیرِ خزانہ کے اس بیان کے بعد اب تمام نظریں وزارتِ پٹرولیم کے آئندہ اعلان پر لگی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، شرحِ مبادلہ (ڈالر کی قدر) اور حکومت کی جانب سے عائد کردہ لیوی اور ٹیکسز کی بنیاد پر ہر 15 دن بعد کیا جاتا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست مقامی صارفین پر منتقل ہوتے ہیں۔
حکومت اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت پیٹرولیم لیوی کو زیادہ سے زیادہ حد تک رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اگر حکومت نے اس موقع پر لیوی بڑھائی تو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ 4.75 روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
ایکس ریفائنری قیمت میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی ریفائنریز پر عالمی خام تیل کی قیمتوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جسے صرف شرحِ مبادلہ میں بہتری سے ہی کم کیا جا سکتا ہے۔