سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ غیرملکی قرضوں کا حجم 33 ہزار ارب روپے سے زائد ہوگیا ہے۔
پاکستان پر مجموعی قرضوں کا حجم 88 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس میں گورنمنٹ، نان گورنمنٹ آئی ایم ایف اور انٹر کمپنی قرضے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی میں دو فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے اسپتال، روڈ، سکول بجلی اور گیس کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کا ٹیکس لینا ضروری ہے،ٹیکسوں کے حصول میں کمی کی وجہ سے حکومت کو ملکی اور غیر ملکی قرضے حاصل کرنا پڑتے ہیں۔
میا ں زاہد حسین نے کہا کہ جب تک بے جا ٹیکس مراعات کا سلسلہ جاری رہے گا قرضوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔