خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات کو مکمل طور پر ناکامی سے بچانے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی اور تنازعات کے ماحول میں ایک غیر رسمی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس عمل میں ایک غیر روایتی مگر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جو نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ سفارتی روابط کے ذریعے بھی دونوں فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے حالیہ ہفتوں میں متعدد بیک ڈور رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔ ان کوششوں میں خطے کے دیگر اہم ممالک سے بھی مشاورت شامل ہے تاکہ ایک قابل قبول فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان، اقتصادی پابندیاں اور خطے میں فوجی نقل و حرکت جیسے عوامل مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اپنی جغرافیائی اور سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال رکھنے اور ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کا یہ کردار نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور ساکھ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ثالثی انتہائی حساس ہوتی ہے اور کسی بھی غلط پیش رفت کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں، جن میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں اور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ جیسے معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد کچھ بہتری آئی تھی، تاہم بعد ازاں اس معاہدے سے علیحدگی اور نئی پابندیوں کے نفاذ نے ایک بار پھر تعلقات کو شدید متاثر کیا۔
پاکستان ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کی کوشش رہی ہے کہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جائے۔ حالیہ صورتحال میں پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ ایک بڑے ممکنہ تصادم کو بھی ٹال سکتی ہیں۔