ملازمین اور پینشنرز کے لیے بڑی خوشخبری، وقت سے قبل تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی کا فیصلہ

ملازمین اور پینشنرز کے لیے بڑی خوشخبری، وقت سے قبل تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی کا فیصلہ

حکومت سندھ اور اکاؤنٹنٹ جنرل ’اے جی‘ سندھ نے صوبے کے لاکھوں سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ایک بڑا اور تاریخ ساز ریلیف کا اعلان کیا ہے۔

نئے انتظامی فیصلے کے تحت اب سرکاری ملازمین کو تنخواہیں، پینشن اور دیگر تمام مالی واجبات ماہ کی پہلی تاریخ کے بجائے وقت سے پہلے ہی ادا کر دیے جائیں گے، تاکہ ملازمین کو گھریلو اخراجات اور مالی ضروریات پورا کرنے میں آسانی ہو۔

تنخواہوں اور پینشن کا نیا مقررہ شیڈول

اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کی جانب سے جاری کردہ نئے باقاعدہ شیڈول کے مطابق ادائیگیوں کے دن درج ذیل تاریخوں کے تحت مقرر کیے گئے ہیں

ماہانہ تنخواہ

سرکاری ملازمین کی تنخواہ اب اگلی دفعہ سے یکم تاریخ کے بجائے ہر ماہ کی 25 تاریخ کو ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔

ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن

بزرگ اور ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کے لیے اب خوار نہیں ہونا پڑے گا، انہیں پینشن یکم تاریخ کے بجائے ہر ماہ کی 26 تاریخ کو ادا کی جائے گی۔

سپلیمنٹری پیرول

تمام ملازمین کے سپلیمنٹری پیرول کی ادائیگی بھی ہر ماہ کی 29 تاریخ کو لازمی کر دی جائے گی۔

جی پی فنڈ اور دیگر واجبات

جنرل پروویڈنٹ فنڈ ’جی پی فنڈ‘ اور دیگر تمام متفرق ادائیگیاں ہر ماہ کی 6 تاریخ سے لے کر 16 تاریخ اور پھر آخری مرحلے میں 20 تاریخ تک مکمل طور پر ادا کر دی جائیں گی۔

اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کا تحریری مراسلہ اور ہدایات

اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ آفس نے اس اہم فیصلے کو فوری طور پر نافذ العمل کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں اور سرکاری اداروں کو ایک رسمی اور تحریری مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ کر رہی ، اہم تفصیلات آگئیں

اس مراسلے میں صوبے کے تمام سرکاری اداروں، سیکرٹریز اور شعبہ جات کے سربراہان کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے ملازمین کا ماہانہ پیرول اور تنخواہوں کا ڈیٹا وقت سے بہت پہلے تیار کر کے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ آفس میں جمع کروائیں، تاکہ 25 تاریخ کو ادائیگیوں میں کوئی بھی تکنیکی تاخیر پیدا نہ ہو۔

سرکاری ملازمین کی مالی مشکلات اور روایتی بینکنگ نظام

پاکستان بالخصوص سندھ میں سرکاری ملازمین کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ ماہ کی پہلی تاریخ گزرنے کے باوجود کئی کئی دن تک ان کی تنخواہیں اور پینشن بینک اکاؤنٹس میں منتقل نہیں ہو پاتی تھیں۔

اس تاخیر کی بڑی وجہ محکموں کی طرف سے پیرول ڈیٹا دیر سے بھیجنا اور نجی یا سرکاری بینکوں پر مہینے کے آغاز میں کام کا شدید دباؤ ہونا تھا۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں تنخواہ میں محض 2 سے 3 دن کی تاخیر بھی غریب اور متوسط طبقے کے سرکاری ملازمین کے لیے راشن، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور بچوں کی اسکول فیسوں کے حوالے سے شدید ذہنی اور مالی پریشانی کا سبب بنتی تھی۔ حکومت سندھ کا یہ اقدام اسی دیرینہ انتظامی خامی کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔

نئے ڈیجیٹل شیڈول کے معاشی اثرات اور انتظامی چیلنجز

سندھ حکومت کا تنخواہوں کو 25 تاریخ پر شفٹ کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک سادہ سی تبدیلی لگ سکتا ہے، لیکن اس کے انتظامی اور معاشی اثرات انتہائی گہرے ہیں

ملازمین کے اعتماد اور کارکردگی میں اضافہ

وقت سے پہلے تنخواہ ملنے سے ملازمین کے اندر مالی تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جب انہیں معلوم ہوگا کہ 25 تاریخ کو لازمی رقم بینک میں آ جائے گی تو وہ زیادہ دلجمعی اور ایمانداری سے سرکاری امور انجام دیں گے۔

بینکنگ سسٹم پر دباؤ کا خاتمہ

ہر ماہ کی یکم سے 5 تاریخ کے دوران ملک بھر کے تمام بینکوں پر تنخواہ دار طبقے کا شدید رش ہوتا ہے، جس سے نقد رقم کی دستیابی اور آن لائن سرورز ڈاؤن ہونے کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا اپنے ملازمین کیلئے بڑا فیصلہ ، یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافے کااعلان

تنخواہ کو 25 تاریخ، پینشن کو 26 تاریخ اور جی پی فنڈ کو 6 سے 20 تاریخ کے درمیان تقسیم کرنے سے نقد رقم کی ترسیل کا دباؤ پورے مہینے پر پھیل جائے گا اور بینکنگ سسٹم آسانی سے چلے گا۔

انتظامیہ کے لیے سخت چیلنج

اس نظام کی کامیابی کا پورا دارومدار صوبائی محکموں کی پھرتی پر ہے۔ اب اکاؤنٹ سروسز کے کلرکوں اور افسران کو ہر ماہ کی 15 تاریخ سے ہی ڈیٹا پروسیسنگ شروع کرنی ہوگی۔

اگر کسی ایک بڑے محکمے (جیسے محکمہ تعلیم یا صحت) نے ڈیٹا دیر سے بھیجا، تو پورا شیڈول متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے اے جی آفس کو سخت مانیٹرنگ کرنی ہوگی۔

Related Articles