سولر صارفین پر اضافی ٹیکس کی منظوری روک دی گئی

سولر صارفین کیلئے خوشخبری ہے کہ صارفین پر اضافی ٹیکس کی منظوری روک دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ پالیسی منظور نہ ہوسکی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا نے سولر صارفین پر نیٹ میٹرنگ پالیسی کی منظوری کی مخالفت کر دی۔ وزیراعظم نے وزیر توانائی کو نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی، وزیراعظم جلد خوشخبری سنائیں گے، اویس لغاری

واضح رہے کہ حال ہی میں ای سی سی اجلاس میں نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں ترامیم کی منظوری دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں سولر پینلز سے پیدا ہونیوالی بجلی مہنگی ہوجائیگی۔ نئی ترمیم کے تحت بائی بیک ریٹ 10روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا، اس کا مطلب تھا کہ حکومت اب سولر صارفین سے بجلی 27روپے کی بجائے 10روپے فی یونٹ میں خریدے گی جبکہ انہی صارفین کو واپڈ کی بجلی 42روپے فی یونٹ (آف پیک )اور 48روپے فی یونٹ (پیک آورز )میں فراہم کی جائیگی۔ اس پر18فیصدٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز بھی لاگو ہوں گی۔

یہ فیصلہ نیٹ میٹرنگ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کیا گیا، جس کا مقصد عمومی صارفین کیلئے بجلی کو سستا بنانا ہے۔ تاہم اس سے گرڈ کی بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کو نقصان ہوا کیونکہ نیٹ میٹرنگ صارفین میں 80فیصد کا تعلق ملک کے 9بڑے شہروں سے ہے۔

editor

Related Articles