آزاد کشمیر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک، میرپور پولیس نے معمول کی ناکہ بندی کے دوران کارروائی کرتے ہوئے 2 مسلح افراد کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولیاں برآمد کر لیں۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان، جن کی شناخت نعیم اور عاقب کے نام سے ہوئی ہے، موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ افراد راولاکوٹ میں جاری احتجاجی سرگرمیوں سے واپس ڈڈیال آئے تھے اور دوبارہ وہاں جا رہے تھے، ان کے پاس اسلحہ تھا اور وہ یہ اسلحہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران مہران اور امان تک پہنچانا چاہتے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار افراد نے انکشاف کیا کہ وہ مہران اور امان اور ناظم کشمیری کی ہدایات پر کام کر رہے تھےاور ان کے کہنے پر ڈڈیال سے اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔
پولیس نے کہا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 2 کلاشنکوفیں، 3 پستول اور کارتوس برآمد ہوئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
تحقیقات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران چند مقامی رہنماؤں کی ہدایات پر ڈڈیال سے راولاکوٹ اسلحہ منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے عوامی حقوق کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیاں انجام دینے والے عناصر کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش دھرنے کے اندرونی حالات سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور بعض افراد کو زبردستی روک کر رکھا جا رہا ہے۔
میرپور کا ایک رہائشی جس کی عمر 18 سال کے قریب ہے اس کے ساتھ ناظم کشمیری اور اُس کے چند ساتھیوں نے بد فعلی کی اور اب اس کو واپس بی نہیں آنے دے رہے تاکہ وہ واپس آ کر کسی قسم کے بیانات نہ دے سکیں۔
یہ تمام صورتحال ایک مرتبہ پھر اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی تحریک کے اندر آخر کیا عناصر سرگرم ہیں اور ان کے اصل مقاصد کیا ہیں۔
عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ شرپسند عناصر اور قانون ہاتھ میں لینے والے گروہوں سے دور رہیں۔ بنیادی حقوق کا حصول ہر شہری کا جائز حق ہے اور ان حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی ایک جمہوری حق ہے، تاہم ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی، تشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ عوام حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور کسی بھی ایسے ایجنڈے سے محتاط رہیں جو بنیادی حقوق کے نام پر معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کا باعث بنے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ دھرنے اور احتجاجی مقامات کے اندرونی حالات اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع بشمول میرپور اور راولاکوٹ میں گزشتہ کئی مہینوں سے عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر مقامی تنظیموں کی جانب سے بجلی کے بلوں، آٹے پر سبسڈی اور دیگر بنیادی حقوق کے حصول کے لیے دھرنے اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
اگرچہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے مسلسل پرامن رہنے اور آئینی حدود کے اندر احتجاج کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ گرفتاریوں اور اسلحے کی برآمدگی کے بعد عوامی حقوق کی اس تحریک کے طریقہ کار اور اس میں شامل مخصوص عناصر کی نیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
عوامی ذمہ داری
موجودہ حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جمہوری معاشرے میں بنیادی حقوق کے لیے پرامن آواز اٹھانا ہر شہری کا جائز اور آئینی حق ہے، لیکن جب سیاسی یا سماجی تحریکوں میں اسلحہ اور قانون شکنی جیسے عناصر شامل ہو جائیں تو تحریک کا اصل مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
اس نوعیت کی سرگرمیوں سے نہ صرف ریاست اور عوام کے درمیان دوری بڑھتی ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
ایسے نازک موڑ پر انتظامیہ اور عوامی رہنماؤں دونوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ پرامن شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی غیر قانونی ایجنڈے کو پنپنے کا موقع نہ ملے۔