پاکستان سمیت خیبرپختونخوا بھر میں مقیم افغان باشندوں کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں لاکھوں افغان شہری رہائش پذیر ہیں، سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں، خیبرپختونخوا میں ملک کے 52 فیصد افغان مہاجرین موجود ہیں جن کی تعداد 7 لاکھ 92 ہزار 278 ہے۔
اسی طرح بلوچستان، پنجاب، سندھ، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور دیگر علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں افغان شہری موجود ہیں۔
دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بعد بلوچستان میں سب سے زیادہ افغان باشندے موجود ہے جن کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار 386 ہے، یہ ملک میں موجود افغان مہاجرین کا کل 23 فیصد بنتا ہے۔
پنجاب میں کل 1 لاکھ 96 ہزار 657 افغانی موجود ہے جو ملک کے موجود مہاجرین کا 14 فیصد بن رہا ہے، سندھ میں 5 فیصد یعنی 44,117 ، اسلام آباد میں 3 فیصد یعنی 42,718 اور آزاد جموں و کشمیر 4,438 افغان مہاجرین موجود ہے۔
دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد افغان سٹیزن کارڈ (ACC) رکھنے والوں پر مشتمل ہے، جن کی تعداد 3,07,647 بتائی جاتی ہے۔ ان میں وہ افغان باشندے شامل ہیں جو کسی حد تک رجسٹریشن کے عمل سے گزر چکے ہیں، تاہم کئی دیگر باشندے بغیر کسی مستند دستاویز کے یہاں مقیم ہیں۔
دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل 43 مہاجر کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں افغان مہاجرین مقیم ہیں، ان کیمپوں میں رہائش پذیر افراد میں بڑی تعداد پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ رکھنے والوں کی ہے، جن کی تعداد 3,44,908 ہے۔
اس سلسلے میں جب محکمہ داخلہ کے حکام کا مؤقف لیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں مقیم افغان باشندوں کے درست اور اپڈیٹ شدہ دستاویزات مکمل طور پر موجود نہیں ہیں اس کی وجہ سے حکومت کو افغان مہاجرین کے اصل اعداد و شمار اکٹھے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے متعدد بار افغان باشندوں کی رجسٹریشن کو اپڈیٹ کرنے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی لیکن اس بار ایک منظم کارروائی کی جائے گی کیونکہ اس بار مکمل تیاری کرلی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں افغان مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد ملک کے سماجی، اقتصادی اور سیکیورٹی معاملات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔