پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں جس کے بعد بجٹ کے بنیادی خدوخال اور اہم اہداف پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے مذاکرات کے دوران ریونیو، اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور ٹیکس پالیسی سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ورچوئل سطح پر مزید مشاورت جاری ہے جس میں قوی امکان ہے کہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواوں میں سات سے دس فیصد اضافہ اور ایڈہاک الاونس کو ضم کیا جاسکتا ہے مجموعی طور پر بجٹ فریم ورک پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں دوسری بار کمی پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کے بعد ٹیکس ہدف 13 ہزار 979 ارب روپے سے کم کر کے 13 ہزار 5 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے تک جانے کا امکان ہے جبکہ مجموعی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیے جانے کی تجویز ہے۔
مجوزہ اعداد و شمار کے مطابق براہ راست ٹیکسز سے 7413 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 1043 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 4727 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی سے 1651 ارب روپے وصولی کا ہدف رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے جمع کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ نان ٹیکس آمدنی کا ہدف 2768 ارب روپے جبکہ گیس سرچارج سے 151 ارب روپے حاصل کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران حکومت کو قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑے گی جس کا تخمینہ 7824 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں مقامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 6652 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1107 ارب روپے مختص کیے جانے کی توقع ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آئندہ بجٹ میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں رد و بدل پر بھی غور جاری ہے۔
بجٹ کے یہ ابتدائی خدوخال ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کو ایک طرف مالی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ریونیو بڑھانے کی پالیسی پر عملدرآمد بھی جاری رہے گا۔