بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان سندور ٹو کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے بھارت کے اندرونی سیاسی و سماجی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مخالف بیانیوں کا تسلسل ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہا ہے جب بھارت کو مختلف سطحوں پر سفارتی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سندور ٹو جیسے بیانات عسکری ضرورت سے زیادہ سیاسی مقاصد اور داخلی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ جدید جنگی حالات میں ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے اور کسی بھی سرگرمی کو چھپانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق انفارمیشن وارفیئر، باہمی ہم آہنگی اور جدید عسکری تیاریوں کے میدان میں مختلف چیلنجز موجود ہیں۔
بھارت میں اس وقت سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث حکومتی بیانیہ ایک بار پھر پاکستان مخالف سمت میں موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ داخلی مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں مختلف واقعات اور بیانات، جن میں مبینہ دھماکوں سے متعلق دعوے اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف مؤقف شامل ہے کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
سندور 2 جیسے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے زیادہ تر داخلی سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اصل چیلنجز بھارت کو اپنی داخلی پالیسیوں اور گورننس کے میدان میں درپیش ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ اشتعال انگیز بیانات کے بجائے باہمی اعتماد اور سفارتی روابط کو فروغ دیا جائے۔