شرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور جنگ بندی کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے اور اس کے کتنے ناقابلِ برداشت نتائج نکل سکتے ہیں۔
ہم اپنے بھائیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے خلوصِ نیت اور محنت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ کو” مین آف دی پیس” قرار دے دیا
خاص طور پر جب حتمی مقصد تقریباً حاصل ہونے کے قریب ہے، ہم تمام فریقین سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔
آئیے ہم تشدد اور تباہی کے بجائے امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں، کیونکہ اسی میں کامیابی اور روشن مستقبل کی امید موجود ہے۔
The recent surge in violence in the Middle East is a stark reminder of the dangers associated with a tenuous ceasefire and the unbearable consequences it may lead to. As we work earnestly and painstakingly, together with our brothers and partners, to find a peaceful diplomatic…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 8, 2026

