امریکا ایران تنازع حل ہوا توپاکستان کو بڑا معاشی ریلیف ملے گا، مہنگائی 6 سے 7 فیصد تک گر سکتی ہے، محمد اورنگزیب

امریکا ایران تنازع حل ہوا توپاکستان کو بڑا معاشی ریلیف ملے گا، مہنگائی 6 سے 7 فیصد تک گر سکتی ہے، محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ امن معاہدے اور جنگ بندی کو پوری دنیا سمیت پاکستان کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے ملکی معیشت اور مہنگائی پر اس کے گہرے اور مثبت اثرات کا اظہار کیا ہے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی اور اہم انٹرویو میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اس تاریخی تنازع کے خاتمے سے عالمی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مالیاتی نظام کو ایک بہت بڑا اور پائیدار ریلیف ملنے کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ امن معاہدہ مستقل بنیادوں پر برقرار رہتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی آئے گی، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان میں مہنگائی کو کم کرنے پر مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مارچ اور اپریل کیلئے ملک میں کتنا تیل ہوگا۔وفاقی وزیر خزانہ سے سب بتا دیا

انہوں نے بتایا کہ تیل سستا ہونے سے ملک کے مالیاتی اور بیرونی شعبے (ایکسٹرنل سیکٹر) کو اضافی اور مضبوط سہارا ملے گا۔

محمد اورنگزیب نے ماضی کے جنگی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی افراطِ زر (مہنگائی کی شرح) اور اسٹیٹ بینک کی شرح سود پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔

تاہم حکومت نے اس مشکل صورتحال کا انتہائی مؤثر اور اسٹرٹیجک انداز میں مقابلہ کیا، جس کی وجہ سے ملک کے اندر نہ تو اشیائے ضروریہ کی کوئی قلت پیدا ہونے دی گئی اور نہ ہی ایندھن (پیٹرول و ڈیزل) کا کوئی بحران جنم لے سکا۔

وزیر خزانہ نے ایک سوال کے جواب میں اس سفارتی کامیابی کو پاکستان کے لیے ایک اہم اور قابلِ فخر لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف کے حوالے سے خاصے پُرامید ہیں۔

تاہم  انہوں نے معاشی حلقوں کو خبردار بھی کیا کہ تنازع کے دوران عالمی سطح پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سپلائی چین (سامان کی ترسیل کا نظام) بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، اس لیے ملکی اور عالمی معاشی صورتحال کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت ضرور لگ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:10 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کا ری کیلئے پاکستان قابل عمل منصوبوں کیلئے کوشاں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک کی سابقہ پیش گوئی کے مطابق ملکی مہنگائی کی شرح 6 سے 7 فیصد کی حد میں واپس آسکتی ہے، بشرطیکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری و سیاسی تناؤ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اس خطے سے گزرنے والے عالمی تجارتی بحری راستوں اور تیل کی سپلائی لائنز پر حملوں کے خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ پاکستان جیسا ملک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ درآمدی تیل اور گیس سے پورا کرتا ہے، اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا تھا۔

موجودہ سال 2026 کے وسط میں جب دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، تو عالمی معیشت نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ اس لیے بھی پُر امید سال ہے کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت معاشی استحکام لانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر خام تیل کا سستا ہونا ملکی درآمدی بل (امپورٹ بل) کو کم کرنے میں سب سے بڑا محرک ثابت ہو سکتا ہے۔

درآمدی بل میں کمی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ

پاکستان کا سب سے بڑا معاشی چیلنج اس کا ’کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ‘ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ مہنگا تیل خریدنا ہے۔ امن معاہدے کے بعد جیسے ہی خام تیل کی عالمی قیمتیں گریں گی، پاکستان کا زرِ مبادلہ کا خرچ اربوں ڈالر کم ہو جائے گا۔ اس سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو تاریخی سہارا ملے گا اور پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید مستحکم ہوگا۔

افراطِ زر (مہنگائی) کا 6 سے 7 فیصد تک گرنا

وزیر خزانہ کا یہ بیان کہ مہنگائی 6 سے 7 فیصد کی سطح پر واپس آسکتی ہے، عام آدمی کے لیے ایک بہت بڑی معاشی خوشخبری ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا براہِ راست تعلق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے ہوتا ہے۔ جب پیٹرول سستا ہوگا تو مال برداری (ٹرانسپورٹیشن) کے اخراجات کم ہوں گے، جس سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی ہول سیل مارکیٹوں میں سبزیاں، پھل، آٹا اور دیگر اشیائے ضروریہ عام عوام کی پہنچ میں آ جائیں گی۔

شرح سود میں کمی اور صنعتی ترقی

 جنگ کے باعث بڑھنے والے افراطِ زر کے دباؤ کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کو شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنا پڑا تھا، جس سے نجی شعبے کے لیے بینکوں سے قرض لے کر نئے کارخانے لگانا ناممکن ہو چکا تھا۔

اب مہنگائی کم ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک شرح سود میں نمایاں کمی کرے گا، جس سے ملک میں صنعتی و کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور سپلائی چین کا چیلنج

 وزیر خزانہ نے ایک انتہائی اہم اسٹرٹیجک نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے‘۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ ہوتے ہی راتوں رات معجزہ نہیں ہوگا، کیونکہ بحری جہازوں کے راستوں کی بحالی اور تیل صاف کرنے والے کارخانوں (ریفائنریز) کو دوبارہ مکمل فعال ہونے میں چند ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ اس لیے حکومت کو آئندہ مالی سال کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس عبوری دور کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

Related Articles