10 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کا ری کیلئے پاکستان قابل عمل منصوبوں کیلئے کوشاں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

10 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کا ری کیلئے پاکستان قابل عمل منصوبوں کیلئے کوشاں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہا ہے کہ 10 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کا ری کے حصول کیلئے پاکستان قابل عمل منصوبے تیار کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے انگریزی زبان کے روزنامہ عرب نیوز کو انٹرویودیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کا ری کی جو خواہش پہلے ظاہر کی گئی تھی، وہ تبدیل نہیں ہوئی اور پاکستان اب نجی شعبے کے ایسے قابل عمل منصوبے تیار کر رہا ہے جو دونوں ممالک کو بحران سے متعلق امدادی فنانسنگ سے ہٹا کر طویل المدتی بزنس ٹو بزنس اقتصادی تعاون کی طرف لے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب سعودی عرب کی سرمایہ کا ری کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ طویل بحران کے بعد معاشی استحکام کی ابتدائی نشانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ مہنگائی جو مئی 2023ء میں تقریباً 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی،میں اب نمایاں طور پر کمی آ چکی ہے،۔

روپے کی قدرمستحکم ہوئی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے یہ پیشرفت منظم و منضبط مالیاتی اور زری پالیسیوں کا نتیجہ ہے، فچ اور موڈیز سمیت بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ میں اضافہ کر دیاہے جو برسوں کی تنزلی کے بعد نمایاں تبدیلی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے 24 سرکاری ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ، وزیر خزانہ

، پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر مالیت کے پروگرام کے وسط میں ہے جو ستمبر 2024ء میں منظور ہوا تھا، پروگرام کا دوسرا جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور بورڈ کا فیصلہ دسمبر کے اوائل میں متوقع ہے،اس پیشرفت سے سرمایہ کا روں کو پیغام جا رہا ہے کہ کلی معیشت کے حوالہ سے خطرات بتدریج کم ہو رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ اس پیشرفت نے پاکستان کی ساکھ کو اس وقت مضبوط کیا ہے جب وہ سعودی عرب، چین، امریکہ اور خلیج تعاون کو نسل کے شراکت داروں کی جیو پولیٹیکل حمایت کو براہ راست غیرملکی سرمایہ کا ری میں تبدیل کرنے کی کو شش کر رہا ہے۔

 وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ اگلے مرحلے کی قیادت نجی شعبہ کرے جبکہ حکومت کا کردار شفاف اور قابل پیشگوئی سرمایہ کا ری ماحول پیدا کرنا ہے۔

سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہاکہ سعودی عرب کے نقطہ نظر سے وہ تیار،خواہاں اور پوری طرح اہل بھی ہیں اور اب ایک لحاظ سے گیند ہمارے کو رٹ میں ہے کہ ہم قابل سرمایہ کاری و بینک ایبل منصوبے پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانیوں کی اطلاع دیں، انعام حاصل کریں، حکومت کا بڑا اعلان

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد قلیل المدت فنانسنگ انتظامات سے آگے بڑھنا ہے، پاکستان امداد نہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کا ری سے آگے بڑھنا چاہتا ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ پائیداری دونوں جانب سے اسی طریقے سے آئے گی۔

وزیر خزانہ نے فارورڈ سپورٹس سیالکوٹ کی مثال دی جو ایڈیڈاس کے آفیشل ورلڈ کپ میچ کے بالز تیار کرتی ہے اور حال ہی میں ایک چینی حریف کو پیچھے چھوڑ کر جرمن برانڈ کی سب سے بڑی فٹ بال سپلائر بن گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فارورڈ سپورٹس نے گزشتہ ماہ ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں سعودی حکام سے ملاقات کی تاکہ ایسا ماڈل تیار کیا جا سکے جس میں ہائی پریسیژن مینوفیکچرنگ پاکستان میں ہو جبکہ فنشنگ، پیکجنگ اور خطے میں تقسیم سعودی عرب کے پاس ہوں جو مملکت کی مقامی صنعت کا ری کے اقدام کا حصہ ہے۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ ریکوڈک پراجیکٹ کے لیے طویل عرصے سے زیر انتظار فنانشل کلوز اب بہت قریب ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انٹرنیشنل فنانس کا رپوریشن قرض دہندگان کے کنسورشیم کی قیادت کر رہی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی بینکوں کو منصوبہ پر بھرپور اطمینان ہے کیونکہ آئی ایف سی عموماً بڑے اور پیچیدہ وسائل پر مبنی منصوبوں کے لیے مضبوط ڈھانچہ جاتی فنانسنگ کرتی ہے۔

editor

Related Articles