ایم کیو ایم کا 18 ویں ترمیم رول بیک کرنے کا مطالبہ، ترمیم کے بعد صوبے ریاست بن چکے ہیں، خواجہ اظہار

ایم کیو ایم کا 18 ویں ترمیم رول بیک کرنے کا مطالبہ، ترمیم کے بعد صوبے ریاست بن چکے ہیں، خواجہ اظہار

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے 18ویں آئینی ترمیم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے عملی طور پر ریاستوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی حکومت کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں جبکہ صوبائی حکومتوں کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اختیارات کے توازن اور مؤثر حکمرانی کے لیے 18ویں ترمیم کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ خواجہ اظہار الحسن کے مطابق موجودہ نظام میں بعض معاملات میں وفاق کا کردار کمزور پڑ گیا ہے، جس کے باعث قومی سطح پر یکساں پالیسی سازی متاثر ہو رہی ہے۔

ایم کیو ایم رہنما نے مطالبہ کیا کہ 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے یا اس میں ضروری تبدیلیاں لانے پر غور کیا جائے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔۔

یہ بھی پڑھیں: کامران شاہد نے 28ویں ترمیم سے متعلق قیاس آرائیوں کی افواہوں کا پول کھل دیا

واضح رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم 2010 میں منظور کی گئی تھی، جس کے تحت متعدد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔

Related Articles