انصاف صرف اللہ کا کام، ہم تو محض دستاویز دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل

انصاف صرف اللہ کا کام، ہم تو محض دستاویز دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل

سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس جمال مندوخیل  نے کہا ہے کہ انصاف کرنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے، ہم ججز تو محض دستاویزات پر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔۔

جمعرات کو یوم مزدور کے موقع پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج  جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’ آپ حیران ہوں گے کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں؟ پر میری ذاتی رائے ہے کہ ہم ججز تو انصاف نہیں کرتے، انصاف تو اللّٰہ کا کام ہے ہم تو بس فیصلہ کرتے ہیں، ہم اپنے میز پر پڑی ہوئی دستاویز کو دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، پاکستان کا آئین اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی سے زبردستی کام لیں، ججز ہمیشہ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے حلف اٹھاتے ہیں۔ پالیسی فیصلوں پر بات نہیں کر سکتا کیونکہ ہمارا کلچر تو یہ ہے کہ ہم مل بیٹھ کر جرگے کی صورت میں بات کریں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ میرا  جج ہونے میں کوئی کمال نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کام کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کیا میں بحیثیت جج اپنا کام صحیح طریقے سے کر رہا ہوں؟ انہوں نے خود کو بھی مزدور کہتے ہوئے کہا کہ آپ میں اور مجھ میں نام کا فرق ہے، فرق یہ ہے کہ آپ کو مزدور اور مجھے جج کا نام دیا گیا ہے، میرا کوئی کمال نہیں کہ میں اس عہدے پر بیٹھا ہوں، یہ اللہ کا کام ہے کہ اس نے ہر کسی کو اپنا منصب عطا کر رکھا ہے، بحثیت انسان ہم سب برابر ہیں۔

 کانفرنس سے چیئرمین این آئی آر سی جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، حکومت صنعتوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے کیونکہ صنعتیں چلتی رہیں گی تو مزدور کے چولہے بھی جلتے رہیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *