غیر ملکی تجزیہ کار بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے معترف نکلے

غیر ملکی تجزیہ کار بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے معترف نکلے

اسلام آباد: جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینئر فیلو ڈینیئل مارکی نے دی وائر سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ پاک-بھارت کشیدگی سے متعلق کہا ہے کہ پاکستان کے پاس  بھارت کو مؤثر جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے، جیسا کہ ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں، اور بھارت نے اپنی فوجی صلاحیت میں اب تک کوئی ایسی بڑی پیش رفت نہیں کی جو اس صورتحال کو بنیادی طور پر بدل دے۔ یعنی بھارت کے پاس کہیں زیادہ طیارے موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں ممالک کی افواج کے دیگر پہلوؤں کا استعمال ابھی تک نہیں دیکھا۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ میزائل حملے دیکھنے کو ملیں، جیسا کہ 2019 میں اس پر تشویش پائی جاتی تھی۔ لیکن پاکستان کے پاس بھی میزائل صلاحیت موجود ہے، اس لیے بھارت کو بھی اس کے ممکنہ خطرناک نتائج پر غور کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا جھوٹا، انٹیلیجنس ناکامیوں پر پردہ ڈال کر جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے، الجزیرہ

انہوں نے مزید کہا کہ  ہم نے ابھی تک بڑے پیمانے پر ڈرون وارفیئر یا دیگر ایسے اقدامات نہیں دیکھے جو دیگر خطوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو ہم کچھ نئے اور مختلف پہلو دیکھ سکتے ہیں جو واشنگٹن میں زیادہ عدم استحکام اور تشویش کا باعث ہوں گے، لیکن بھارت کو یہاں کوئی فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہے۔

ڈینیئل مارکی نے مزید کہا کہ میں ایک اور اہم پہلو کا ذکر کرنا چاہوں گا اور وہ ہے چین ، جس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ 2020 سے بھارت اپنی چین کے ساتھ سرحد کے حوالے سے کہیں زیادہ فکرمند ہے، جس کی وجہ سے اس نے اپنی کچھ فوجی نفری پاکستان کے محاذ سے ہٹا کر چین کے محاذ پر منتقل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ کسی بھی بحران کے دوران چین کے محاذ پر بھی نظر رکھنی ہوگی، اور کسی حد تک ایسا ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ لیکن 2020 میں یہ صورتحال 2019 کی نسبت کہیں زیادہ شدید ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت اب زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ وہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ چین  کی جانب سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس 24 نیوز نے مودی سرکار کی اے آئی کے ذریعے حقائق مسخ کرنے کی کوشش بے نقاب کردی

Related Articles