امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری شدید ترین کشیدگی اور جنگی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے پاکستانی قیادت نے ایک ایسا تاریخی اور شاندار کردار ادا کیا ہے جس نے پاکستان کو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
عالمی سطح پر اس غیر معمولی پیش رفت کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ اور اِنتھک کوششوں کے نتیجے میں دونوں حریف ممالک بالآخر میز پر بیٹھنے اور امن معاہدے پر آمادہ ہوئے ہیں۔
عالمی جریدے ‘بلومبرگ’ کی رپورٹ
معروف عالمی معاشی و سیاسی جریدے ‘بلومبرگ’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بطور ثالث سب سے پہلے امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی وزیرِاعظم اور ملکی عسکری قیادت اس مشکل ترین جنگ کو رکوانے کے لیے عالمی سطح پر مرکزی شخصیات کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے تہران میں ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح کی خفیہ و علانیہ ملاقاتوں، اسلام آباد امن مذاکرات کے متعدد ادوار اور انتہائی پیچیدہ سفارت کاری کے ذریعے امن کا راستہ ہموار کیا۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی و اسٹرٹیجک صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے پسندیدہ ’فیلڈ مارشل‘ کے لقب سے بھی نوازا۔
پاکستان ہی سب سے موزوں ثالث کیوں بنا؟
عالمی جریدے نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ پاکستانی قیادت کی بیک وقت واشنگٹن اور تہران سے بہترین اسٹریٹجک ہم آہنگی اور روابط موجود تھے، جس نے پاکستان کو اس انتہائی حساس ثالثی کے کردار کے لیے دنیا کا سب سے موزوں اور قابلِ اعتماد ملک بنایا۔
پاکستان کے اس کردار کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ سابق برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اسٹیفن پاؤنڈ نے پاکستان کی اس کامیاب ثالثی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے موجودہ دور کے عالمی منظرنامے میں دنیا کی اہم ترین سفارتی کامیابی قرار دے دیا ہے۔
دنیا تیسری عالمی جنگ سے بچ گئی، کرسٹوفر کلیری کا بیان
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے سابق اہلکار کرسٹوفر کلیری نے پاکستان کے اس نئے جیو پولیٹیکل کردار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب خطے میں ایک بااثر سفارتی اور فوجی کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت ایک امکانی ‘تیسری عالمی جنگ’ کے دہانے پر کھڑی تھی اور اس بھیانک تباہی سے عالمی برادری کو واپس لانے کے لیے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاؤشوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور رعب بے پناہ بلند کر دیا ہے۔
امریکا ایران کشیدگی اور پاکستان کا اسٹرٹیجک مقام
امریکا اور ایران کے تعلقات دہائیوں سے شدید سرد جنگ، پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگوں کے باعث بارود کے ڈھیر پر رہے ہیں۔
حالیہ سالوں میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندیوں، خلیجی خطے میں فوجی نقل و حرکت اور ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی جارحیت نے دونوں ممالک کو براہِ راست جنگ کے قریب لا کھڑا کیا تھا۔
ماضی میں بھی پاکستان نے ہمیشہ دونوں برادر و دوست ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، کیونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور امریکا اس کا روایتی سٹریٹجک پارٹنر ہے۔
جب خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہوئے اور عالمی معیشت تیل کی سپلائی چین رکنے کے خوف سے تباہی کی طرف بڑھنے لگی، تو پاکستان نے اپنی ‘جیو اکانومکس’ اور فعال سفارت کاری کے تحت ‘اسلام آباد امن مذاکرات’ کا آغاز کیا، جو بالآخر ایک تاریخی معاہدے پر منتج ہوا۔