سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے، ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرینہ تنازعات کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات کا آغاز اور ابتدائی گفتگو
مذاکرات شروع ہونے سے قبل کانفرنس روم میں فریقین کے درمیان غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی امن کے لیے مکالمہ اور تعاون ناگزیر ہے، شرکاء نے کہا کہ دنیا میں استحکام صرف مشترکہ کوششوں اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کا کردار اور مؤقف
پاکستانی قیادت نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد خطے اور دنیا میں امن کو فروغ دینا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اس عمل میں صرف امن کے لیے شریک ہے اور تمام فریقین مل کر دنیا میں اتحاد اور استحکام قائم کر سکتے ہیں، تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے میں ہے۔
امریکی وفد کی شرکت اور پاکستان کی تعریف
امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ امریکی نائب صدر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں،انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیتے ہوئے ان کے کردار کی بھی تعریف کی۔
گفتگو کے دوران دلچسپ جملے اور ماحول
سوئٹزرلینڈ میں جاری سفارتی اجلاس کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی گفتگو میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب انہوں نے پاک بھارت تعلقات اور اپنی ذاتی گفتگو کے حوالے سے تبصرہ کیاانہوں نے کہا کہ ان کی زندگی میں پاکستانی اور بھارتی دونوں شخصیات موجود ہیں اور بعض اوقات اس حوالے سے مختلف انداز کے لطیفے بھی سننے کو ملتے ہیں
اہم شخصیات کے حوالے سے مزاحیہ انداز گفتگو
جے ڈی وینس نے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی میں اہم بھارتی شخصیت ان کی اہلیہ ہیں جبکہ اہم پاکستانی شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے سب سے زیادہ گفتگو اپنی اہلیہ سے نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کی ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف
امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششیں اور کردار نہ ہوتا تو شاید موجودہ سفارتی پیش رفت ممکن نہ ہوتی انہوں نے کہا کہ عسکری سفارت کاری کے میدان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خاص مہارت حاصل ہے اور ان کا کردار خطے میں اہم پیش رفت کا باعث بنا ہے
امریکا کا ایران کے حوالے سے مؤقف
جے ڈی وینس نے گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا جائےانہوں نے کہا کہ اگر ایران خطے میں امن کو نقصان نہ پہنچائے تو تعلقات میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے
اعلیٰ سطحی ملاقاتیں
مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی وفد سے اہم ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور فریقین نے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وفد سے ملاقات
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وفد سے بھی ملاقات کی، ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی ملاقات میں خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سفارتی پیش رفت اور آئندہ امکانات
یہ مذاکرات خطے میں ایک نئے سفارتی مرحلے کا آغاز ہیں، جن کا مقصد اعتماد سازی اور فریقین کے درمیان اختلافات کو کم کرنا ہے پاکستان کی ثالثی کو اس پورے عمل میں ایک اہم اور متحرک کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مزید پیش رفت کے لیے آئندہ نشستوں کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔