شمالی نصف کرے میں موجود پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں آج سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہے۔
فلکیاتی سائنس کی زبان میں اس دن کو ’انقلابِ صیف‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب زمین کا شمالی محور سورج کی طرف اپنے زیادہ سے زیادہ جھکاؤ پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سورج آسمان میں اپنے بلند ترین نقطے پر نظر آتا ہے اور روشنی کا دورانیہ طویل ترین ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں دن کا دورانیہ اور موسم کی تبدیلی
ماہرینِ فلکیات کے مطابق پاکستان میں جغرافیائی مقامات کے لحاظ سے آج دن کا دورانیہ 14 سے 15 گھنٹے کے درمیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
ملک کے شمالی علاقوں (جیسے گلگت بلتستان اور چترال) میں دن کا دورانیہ جنوبی علاقوں (جیسے کراچی اور گوادر) کے مقابلے میں چند منٹ زیادہ طویل ہوگا۔
اس اہم فلکیاتی تبدیلی کے بعد، یکم جولائی سے دن کے دورانیے میں بتدریج سیکنڈز اور منٹوں کی کمی آنا شروع ہو جائے گی۔
یہ سلسلہ ستمبر تک جاری رہے گا اور 22 ستمبر کو ایک بار پھر زمین پر دن اور رات کا دورانیہ بالکل برابر ہو جائے گا، جسے ’اعتدالِ خریفی‘ کہا جاتا ہے۔
امریکی ریاست الاسکا اور قطبین کی صورتحال
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا میں سب سے طویل دن امریکی ریاست الاسکا کے وسطی اور شمالی حصوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں دن کی روشنی کا دورانیہ 21 گھنٹے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
الاسکا کے بعض انتہائی شمالی علاقوں میں تو سورج چند ہی منٹوں کے لیے غروب ہوتا ہے، جسے ’آدھی رات کا سورج‘بھی کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، جنوبی نصف کرے میں آج سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہے، جس کے ساتھ ہی وہاں موسمِ سرما کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
قطب جنوبی کے مرکزی مقام یعنی براعظم انٹارکٹیکا میں ان دنوں سورج بالکل طلوع نہیں ہوتا اور وہاں مکمل طور پر 24 گھنٹے تاریکی کا راج ہے۔
سویڈن میں ‘مڈ سمر’ کا روایتی جشن
یورپی ممالک، بالخصوص سکینڈینیوین خطے میں اس دن کو ثقافتی طور پر انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ یورپی ملک سوئیڈن میں اس موقع کو ’مڈ سمر‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
سویڈش روایت کے مطابق یہ تہوار ہمیشہ جون کے تیسرے ہفتے کے جمعہ کو منایا جاتا ہے، اسی لیے وہاں اس سال باقاعدہ سرکاری جشن 23 جون کو قرار دیا جائے گا۔ اس دن لوگ پھولوں کے تاج پہنتے ہیں، روایتی رقص کرتے ہیں اور سردیوں کے طویل اندھیروں کے بعد سورج کی روشنی کا بھرپور استقبال کرتے ہیں۔