پشاور میں حالیہ خود کش حملے میں ملوث حملہ آور کی نشاندہی بارے اہم شواہد سامنے آگئے

پشاور میں حالیہ خود کش حملے میں ملوث حملہ آور کی نشاندہی بارے اہم شواہد سامنے آگئے

پشاور کے علاقے چمکنی مویشی منڈی کے قریب ہونے والے حالیہ خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور غیر ملکی تھا۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کے علاقے چمکنی مویشی منڈی کے قریب ہونے والے حالیہ خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور غیر ملکی تھا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کا ایک ساتھی دو روز قبل گرفتار کیا گیا تھا، جس کی نشاندہی پر اہم شواہد حاصل کیے گئے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کے قبضے سے حملے کے نقشے اور جیکٹ برآمد ہوئی ہے۔ کالعدم تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والا کمانڈر اور اس کا ساتھی گزشتہ چار روز سے پشاور شہر میں مقیم تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں دہشتگردوں نے شہر کے مختلف ہوٹلوں میں قیام کیا، جن کے دو منیجرز اور مالکان سے بھی تفتیش جاری ہے۔ مزید برآں، کوہاٹ سے بھی داعش کے ایک اور کمانڈر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آور کو جمعیت علماء اسلام (ف) کے ایک جلسے کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ حملہ آور جلسے کے مقام تک پہنچنے سے قبل ہی پولیس کی چیکنگ کے دوران پکڑا گیا۔ تلاشی کے دوران اُس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر سمیت دو پولیس اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جمعیت علماء اسلام (ف) کے جلسوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جمیعت کے رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 چند ماہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ایک ایڈوائزری جاری کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم داعش خراساں نے ایک ٹارگٹ کلر کو اُن کی ٹارگٹ کلنگ کا ٹاسک دیا ہے، لہٰذا وہ اپنی نقل و حرکت محدود کریں اور سکیورٹی مزید سخت کریں۔ اس کے علاوہ داعش خراساں نے کئی بار جے یو آئی (ف) کے جلسوں میں دھماکوں اور رہنماؤں پر حملوں کی ذمہ داری اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے قبول کی ہے۔

editor

Related Articles