آن لائن پرائیویسی اور سیکیورٹی کے لیے استعمال ہونے والی متعدد مقبول ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک(وی پی این)ایپس سے متعلق ایک نئی تحقیق نے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کئی معروف وی پی این ایپس صارفین کا حساس انٹرنیٹ ڈیٹا محفوظ رکھنے میں ناکام ہیں اور بعض صورتوں میں معلومات لیک بھی کر رہی ہیں۔
یونیورسٹی آف مشی گن انجینئرنگ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے ایم وی پی اینالائزر نامی دنیا کا پہلا ایسا خودکار فریم ورک تیار کیا ہے، جو بڑی تعداد میں موبائل وی پی این ایپس کی سیکیورٹی کا جامع جائزہ لے سکتا ہے۔ یہ تحقیق نیٹ ورک اینڈ ڈسٹری بیوٹڈ سسٹمز سیکیورٹی 2026 سمپوزیم میں پیش کی گئی۔
تحقیق کے دوران اینڈرائیڈ کی 281 مقبول وی پی این ایپس کا تجزیہ کیا گیا، جس میں معلوم ہوا کہ 29 وی پی این ایپس صارفین کی ڈی این ایس اور براؤزر ٹریفک لیک کر رہی تھیں، جس سے وی پی این استعمال کرنے کا بنیادی مقصد ہی متاثر ہو جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 20 فیصد سے زائد وی پی این ایپس انٹرنیٹ ٹریفک کو بغیر انکرپشن کے منتقل کرتی ہیں، جبکہ 60 فیصد سے زیادہ ایپس میں بنیادی سیکیورٹی فیچرز موجود نہیں، جس کے باعث صارفین کو سائبر حملوں اور ڈیٹا چوری کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تحقیق کی سینئر مصنفہ اور یونیورسٹی آف مشی گن میں کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رویا انصافی نے کہا کہ لاکھوں افراد اپنی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ کے لیے وی پی این استعمال کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ بہت سی ایپس بنیادی حفاظتی معیار پر بھی پوری نہیں اتر رہیں۔
ان کے مطابق اس تحقیق کا مقصد صارفین، ریگولیٹرز اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ وی پی این ایپس درحقیقت کس حد تک محفوظ ہیں، تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں اور کمپنیوں پر سیکیورٹی معیار بہتر بنانے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔