11 سالہ بچی کے منہ میں 81 دانت، ڈاکٹروں بھی حیران رہ گئے

11 سالہ بچی کے منہ میں 81 دانت، ڈاکٹروں بھی حیران رہ گئے

ایک 11 سالہ بچی کے کیس نے ڈاکٹروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا، جب ایکسرے رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اس کے منہ میں 81 دانت موجود ہیں۔ یہ ایک انتہائی نایاب طبی حالت ہے جسےہائپر ڈونشیا کہا جاتا ہے۔

عام طور پر انسان کے منہ میں 20 دودھ کے دانت ہوتے ہیں اور32 مستقل دانت ہوتے ہیں لیکن اس نایاب بیماری میں جسم اضافی دانت بنانا شروع کر دیتا ہے جو اکثر جبڑے کے اندر چھپے رہتے ہیں اور برسوں تک نظر نہیں آتے۔

یہ بھی پڑھیں :ماؤنٹ ایورسٹ سے متعلق حیران کن انکشافات

ہائپر ڈونشیامیں جسم کے دانت بنانے والے خلیات غیر معمولی طور پر زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اضافی دانت بنتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دانت سیدھے منہ میں نہیں آتے بلکہ ہڈیوں کے اندر ہی رہ جاتے ہیں۔

اس حالت کی وجہ سے مریض کو کئی مشکلات ، جیسے کہ منہ میں شدید بھیڑ اور دانتوں کا ٹیڑھا پن ،کھانے میں مشکل ،بولنے میں مسئلہ ،درد اور سوجن ،مسوڑھوں پر دباؤکا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :آسمان پر 6 سورج نمودار،، سائنسدانوں نے حیران کن حقیقت بتا دی

ایسے کیسز میں اکثر ماہر سرجن پیچیدہ آپریشن کے ذریعے اضافی دانت نکالتے ہیں۔ بعض مریضوں میں یہ عمل کئی مراحل میں کیا جاتا ہے تاکہ جبڑے اور دانتوں کو نقصان نہ پہنچے۔

یہ کیس اس بات کی مثال ہے کہ انسانی جسم کبھی کبھی ایسی حیران کن تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جن کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ ہائپر ڈونشیا اگرچہ بہت نایاب ہے، لیکن یہ طبی دنیا کے لیے ایک اہم ریسرچ موضوع بھی ہے۔

editor

Related Articles