ہوائی جہاز کے اندر سیٹوں کی ترتیب کسی عام منصوبے کے تحت نہیں بلکہ ایک خاص انجینئرنگ اور سائنسی اصول کے مطابق تیار کی جاتی ہے تاکہ مسافروں کے آرام، جگہ اور ٹکٹ کی قیمتوں میں مناسب توازن برقرار رکھا جا سکے۔
طیارے کے اگلے حصے میں فرسٹ کلاس سیٹیں ہوتی ہیں، جہاں سب سے زیادہ کشادہ نشستیں، مکمل پرائیویسی اور اعلیٰ درجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جسے فضائی سفر کا سب سے پرتعیش تجربہ سمجھا جاتا ہے۔
اس کے بعد بزنس کلاس آتی ہے جو عام طور پر فرسٹ کلاس کے پیچھے واقع ہوتی ہے۔ اس حصے میں مسافروں کو بہتر آرام، وسیع نشستیں اور لمبی پروازوں کے لیے ایسی سیٹیں دی جاتی ہیں جنہیں بستر میں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔
پریمیئم اکانومی کو درمیانی درجے کی سہولت قرار دیا جاتا ہے، جہاں اکانومی کے مقابلے میں زیادہ ٹانگیں پھیلانے کی جگہ اور نسبتاً بہتر سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔
ایوی ایشن انڈسٹری میں اس مکمل ترتیب کو ’’کبن کنفیگریشن‘‘ یا لوپا (Layout of Passenger Accommodations) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام صرف آرام ہی نہیں بلکہ طیارے کے توازن اور وزن کو برقرار رکھنے کے لیے بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایئرلائنز جدید کمپیوٹر سسٹمز کے ذریعے ہر کلاس میں مسافروں کے وزن اور تعداد کا حساب لگاتی ہیں تاکہ پرواز کا توازن برقرار رہے۔ بعض اوقات اگر کسی ایک کلاس میں زیادہ رش اور دوسری میں کم مسافر ہوں تو سیٹوں میں تبدیلی بھی کی جاتی ہے تاکہ فلائٹ محفوظ اور متوازن رہے۔