سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت بڑی کارروائی،40 ہزار گاڑیاں بلیک لسٹ

سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت بڑی کارروائی،40 ہزار گاڑیاں بلیک لسٹ

سندھ پولیس نے شہر قائد میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے ’سیف سٹی پروجیکٹ‘ کے تحت ایک بڑا اور اہم فیصلہ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کراچی میں چلنے والی40  ہزار گاڑیوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف 1 جولائی سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رجسٹرڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کا طریقہ جانیے

اس فیصلے سے ان لاکھوں شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جنہوں نے اب تک اپنی گاڑیوں کے کاغذات قانونی طور پر درست نہیں کروائے۔

بلیک لسٹ کی جانے والی گاڑیوں کی اقسام

پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ بلیک لسٹ کی گئی گاڑیوں کی فہرست مکمل کر لی گئی ہے، جس میں بنیادی طور پر 3 قسم کی گاڑیاں شامل ہیں۔

ملکیت تبدیل نہ کروانا

ایسی گاڑیاں جنہیں اوپن لیٹر پر یا کسی دوسرے شخص سے خریدا تو گیا لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں نئے مالک کے نام منتقل (ٹرانسفر) نہیں کروایا گیا۔

نامکمل کوائف

ایسی گاڑیاں جن کے مالکان کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، پتے یا دیگر ضروری کوائف سرکاری ریکارڈ میں ادھورے یا غائب ہیں۔

سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی

وہ گاڑیاں جن کے مالکان نے محکمہ ٹیکسیشن کے واجبات، سالانہ ٹوکن ٹیکس یا دیگر سرکاری فیسیں جمع نہیں کروائیں۔

1 جولائی سے سخت ترین سزائیں اور جرمانوں کا اعلان

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد، یعنی 1 جولائی سے سڑکوں پر ناکہ بندی کر کے ان گاڑیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو موقع پر ہی ضبط کر کے تھانوں یا سرکاری گزٹڈ گراؤنڈز میں بند کر دیا جائے گا، جبکہ مالکان پر بھاری مالی جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ گاڑیوں، ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والے کار سواروں کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری

پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر سندھ پولیس کے آفیشل آن لائن پورٹل پر جائیں اور اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر درج کر کے اسٹیٹس چیک کریں۔ اگر گاڑی بلیک لسٹ ظاہر ہو رہی ہو تو 1 جولائی سے پہلے پہلے اس کی ملکیت اور واجبات کا مسئلہ حل کروائیں۔

کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت ہزاروں جدید ترین سی سی ٹی وی  کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ’آٹو میٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن‘ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔

اوپن لیٹر کا مسئلہ

کراچی میں طویل عرصے سے یہ رجحان رہا ہے کہ گاڑیاں بار بار خریدی اور بیچی جاتی ہیں لیکن وہ پہلے یا دوسرے مالک کے نام پر ہی رجسٹرڈ رہتی ہیں۔

جرائم میں استعمال

ماضی میں کراچی میں ہونے والی اسٹریٹ کرائم، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں یہ بات سامنے آئی کہ استعمال ہونے والی گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں ‘اوپن لیٹر’ پر تھیں، جس کی وجہ سے اصل ملزم تک پہنچنا ناممکن یا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈیجیٹل چالاننگ کا نظام

 سیف سٹی کے تحت اب ای-چالاننگ (ڈیجیٹل چالان) کا نظام بھی لاگو کیا جا رہا ہے۔ اگر گاڑی اصل مالک کے نام پر نہیں ہوگی تو چالان غلط شخص کو جائے گا، جس سے پورا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اس ڈیٹا بیس کو صاف کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔

سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات

سندھ پولیس کا یہ اقدام کراچی جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہر کے لیے سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک بڑا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے نفاذ میں کچھ چیلنجز بھی سامنے آئیں گے۔

مثبت پہلو یہ ہے کہ اس اقدام سے گاڑیوں کی چوری اور ان کے ذریعے ہونے والے جرائم میں واضح کمی آئے گی کیونکہ اب ہر گاڑی براہِ راست اس کے چلانے والے کے شناختی کارڈ سے منسلک ہوگی۔ کوئی بھی مجرم ایسی گاڑی استعمال کرنے سے کترائے گا جس کا ریکارڈ سیکنڈوں میں پولیس اسکرین پر آ جائے۔

دوسری طرف  انتظامی طور پر حکومت کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفاتر میں عملے اور سہولیات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ 40000 گاڑیوں کے مالکان جب ایک ساتھ ٹرانسفر اور ٹیکس جمع کروانے نکلیں گے تو دفاتر پر شدید دباؤ آئے گا۔

اگر پورٹل صحیح طریقے سے کام نہ کرے یا دفاتر میں رش کی وجہ سے لوگوں کے کام وقت پر نہ ہوئے تو 1 جولائی کی ڈیڈ لائن شہریوں کے لیے بڑی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

Related Articles