نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ایران سے بجلی درآمد کرنے کے لیے نئے ٹیرف کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بلوچستان کے مکران ڈویژن کو مزید بجلی فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ کی درخواست پر ایران کی سرکاری پاور کمپنی توانیر سے 104 میگاواٹ بجلی کی درآمد جاری رکھنے اور مزید 100 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل کرنے کے لیے 12.40 سینٹس فی کلو واٹ آور تک ٹیرف کی منظوری دے دی ہے
یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی 2023 میں دی گئی منظوری کے بعد سامنے آیا جس کے تحت پاکستان اور ایران کے درمیان بجلی فراہمی کے معاہدے میں توسیع اور نئی ترامیم شامل کی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بجلی فراہمی کا معاہدہ پہلی بار 2002 میں طے پایا تھا، جس میں وقتاً فوقتاً متعدد ترامیم کی جاتی رہی ہیں۔ تازہ ترین ترامیم میں بجلی کی قیمتوں کا نیا طریقہ کار، ادائیگی کی شرائط اور ترسیلی نظام سے متعلق تکنیکی امور شامل کیے گئے ہیں۔
نیپرا کے مطابق نئی ترمیم کے تحت بجلی کے ٹیرف کو عالمی تیل کی قیمتوں سے منسلک کیا گیا ہے جس میں ایک فکسڈ اور ایک متغیر حصہ شامل ہوگا۔ اس فارمولے کے تحت قیمتوں میں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ردوبدل ممکن ہوگا۔
ادھر اتھارٹی نے سی پی پی اے جی پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ بیشتر ترامیم پیشگی منظوری کے بجائے بعد از منظوری جمع کرائی گئیں جو ریگولیٹری قواعد کی خلاف ورزی ہے