حکومت کا بڑا اعلان، اب مزید بجلی نہیں خریدی جائے گی

حکومت کا بڑا اعلان، اب مزید بجلی نہیں خریدی جائے گی

وفاقی حکومت نے بجلی کی خریداری اور ڈسکوز کی نجکاری سے متعلق اہم اعلان کرتے ہوئے توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عندیہ دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت اب مزید بجلی نہیں خریدے گی جبکہ ڈسکوز کی نجکاری کا عمل بھی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ اعلان اویس لغاری اور جرمن سفیر انّا لیپل کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آیا جس میں توانائی اصلاحات، قابلِ تجدید توانائی اور پاک جرمن تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی 55 فیصد توانائی صاف ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے تاہم حکومت کا ہدف اس شرح کو بڑھا کر 90 فیصد تک لے جانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مقامی اور قدرتی ذرائع سے خاطر خواہ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ 800 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول وڈیزل کی قیمتیں کب کم ہوں گی ؟ وزیر دفاع کا بڑا بیان آگیا

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں مالی دباؤ کم کرنے اور نظام کو پائیدار بنانے کے لیے اصلاحات کر رہی  ان کے مطابق گزشتہ سال پاکستان توانائی میں 70 فیصد خود کفالت کے قریب رہا جبکہ ڈسکوز کی نجکاری کے پہلے مرحلے میں 11 میں سے 3 کمپنیوں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال مزید ڈسکوز کو بھی نجکاری پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر جدید توانائی نظام کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کو ناگزیر قرار دیا اور بتایا کہ لیسکو کے لیے جرمن تعاون سے بیٹری اسٹوریج سسٹم منصوبہ زیر غور ہے انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے اور اس مقصد کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

ملاقات میں جرمن مالیاتی اداروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ اویس لغاری نے پاکستان جرمنی انرجی کوآپریشن فریم ورک تشکیل دینے کی تجویز دی جبکہ جرمن سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان کلائمیٹ فریم ورک پہلے سے موجود ہے۔

جرمن سفیر نے پاکستان میں جاری 300 ملین یورو کے توانائی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2027 کے نئے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں تکنیکی روابط اور تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔

editor

Related Articles