’پی اے ای سی‘ امن و ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا علم بردار ہے، ڈاکٹر علی رضا انور

’پی اے ای سی‘ امن و ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا علم بردار ہے، ڈاکٹر علی رضا انور

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجا علی رضا انور نے کہا ہے کہ پاکستان امن و ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا علم بردار ہے۔

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی ) ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے فزکس اور عصری ضروریات پر 50 واں بین الاقوامی نتھیاگلی سمر کالج (آئی این ایس سی) نتھیاگلی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پی اے ای سی ‘ گزشتہ 50 سالوں سے مسلسل ’آئی این ایس سی‘ کا انعقاد کر رہا ہے جو دنیا کے لیے قابل تقلید ہےـ۔

یہ بھی پڑھیں:چین کی آئی اے ای اے کی ممبرشپ کی 40ویں سالگرہ: چیئرمین پی اے ای سی کی وفد کے ہمراہ پاکستان کی نمائندگی

 انہوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ متعدد ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سائنسدانوں میں علمی مباحثے کے فروغ کا سہرا ’آئی این ایس سی‘ کو جاتا ہے۔  انہوں نے ’پی اے ای سی‘ کی کئی اہم کامیابیوں کو ’آئی این ایس سی ‘ سے منسوب کیا، جن میں ’سی ای آر این‘کے ساتھ ایسوسی ایٹ ممبرشپ، لیزر ٹیکنالوجیز کی ترقی، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) میں پیش رفت، کوانٹم کمپیوٹنگ میں اقدامات اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔انہوں نے 50ویں  ’آئی این ایس سی‘ کے دوران خیالات کے دو ہفتوں تک تبادلے کو خوب سراہا۔

 ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے مزید کہا کہ  ’آئی این ایس سی‘ کا اثر فکری تبادلے سے بہت آگے جاتا ہے۔  اس نے قومی اداروں میں ہائی انرجی فزکس کے پروگراموں کو تیار کرنے میں مدد کرنے دی۔  یورپی آرگنائزیشن آف نیوکلیئر ریسرچ (CERN) کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کی ایسوسی ایٹ رکنیت ممکن ہوئی؛  قومی لیزر ٹیکنالوجی پروگرام کو متحرک کرنے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیزرز اینڈ آپٹرونکس قائم کرنے جبکہ پلازما فزکس، میٹریل سائنس، اور کینسر کے علاج کے لیے ریڈیو آسوٹوپ کی تیاری میں  ’آئی این ایس سی‘ کا کردار نمایاں رہا-

 پاکستان اٹامک انرجی کمیشن’ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تحت پاکستان میں امن اور ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا علم بردار ہے۔  قومی ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں پی اے ای سی کے وسیع تر تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے، چیئرمین پی اے ای سی نے سامعین کو بتایا کیا کہ توانائی کے شعبے میں چھ جوہری پاور پلانٹس، جن میں سے چشمہ میں چار اور کراچی میں دو شامل ہیں، قومی گرڈ کو 3500 میگاواٹ سے زائد ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم کر رہے ہیں، جس سے توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی اہداف کو تقویت ملی ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کا ایک اور اعزاز،  اے ایس پی انعم شیر نے ورلڈ’ایکسیلینس ان کرمنل انویسٹی گیشن‘ ایوارڈ جیت لیا

 صحت کی دیکھ بھال میں، پی اے ای سی کے 20 اٹامک انرجی کینسر ہسپتال ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 80 فیصد کینسر کے مریضوں کو جدید تشخیص و علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔  ان میں سے چند مراکز کو سائبر نائف جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین  پی اے ای سی نے مزید کہا کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ  ’نوری‘ کو آئی اے ای اے کے ’ریز آف ہوپ‘ اقدام کے تحت اینکر مرکز نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ زراعت میں، پی اے ای سی نے فصلوں کی 150 سے زیادہ اقسام تیار کی ہیں-

 انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے تحقیقی اور ترقیاتی پروگرام جدت پر مبنی اور طویل مدتی اہداف کے ساتھ منسلک ہیں۔  ہم مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، اور سیمی کنڈکٹرز جیسے فرنٹیئر شعبوں میں نئی ​​لیبارٹریز قائم کرتے ہوئے بنیادی تحقیق میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں –

  ترقی پذیر دنیا میں ’آئی این ایس سی‘ ایک منفرد پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے جہاں سائنس دان علمی تبادلہ کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ گزشتہ سالوں کے دوران،  1,100 سے زیادہ نامورسائنسدانوں اور مقررین، بشمول نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے شرکت کی ہے جبکہ اس کالج نے 75 سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کے 1,000 غیر ملکی سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ’آر اینڈ ڈی‘ اداروں اور یونیورسٹیوں کے 11,000 سے زیادہ سائنسدانوں کی میزبانی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے پی آئی اے نے خصوصی پروازوں کا آغاز کر دیا

 50ویں  ’آئی این ایس سی‘ کے دوران، دنیا بھر سے فیکلٹی ممبران کا ایک متنوع اور ممتاز گروپ شامل ہوا۔  مجموعی طور پر 28 ماہرین نے ذاتی طور پر شمولیت اختیار کی، جبکہ کئی دیگر نے آن لائن اپنے لیکچرز دیے_سائنٹفک سیکریٹری ڈاکٹر شفقت کریم نے دو ہفتوں کی سرگرمیوں کا مجموعی تعارف پیش کیا۔  اختتامی تقریب کے دوران پوسٹر مقابلے جو  ’آئی این ایس سی‘ کے دوران منعقد ہوئے ان میں جیتنے والوں کو انعامات سے بھی نوازا گیا-

 یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 50ویں  ’آئی این ایس سی‘ کی افتتاحی تقریب  این سی پی اسلام آباد میں 16 جون کو منعقد ہوئی تھی جس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال مہمان خصوصی تھے۔

Related Articles