تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس نے عالمی منڈی میں سپلائی بڑھانے کے لیے جولائی سے خام تیل کی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے کا اعلان کیا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث ماہرین اس اضافے کو عالمی منڈی کے لیے ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے جس کے باعث عالمی توانائی منڈیاں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اسی پس منظر میں اوپیک پلس نے تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں سپلائی کے ممکنہ بحران کو کم کیا جا سکے۔
اگرچہ پیداوار میں اضافہ بظاہر ایک مثبت اقدام ہے تاہم آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصے کو خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث اس اضافی پیداوار کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی کو اصل خطرہ تیل کی پیداوار میں کمی نہیں بلکہ سپلائی چین میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل معمول پر نہ آئی تو پیداوار میں اضافے کے باوجود تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر خطے میں کشیدگی کم ہو جاتی ہے اور تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو جاتی ہے تو اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافے کا فیصلہ عالمی منڈی کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔