پاکستان میں موٹر سائیکل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام شہری کے لیے نئی بائیک خریدنا مشکل ہو گیا ہے، اس صورتحال کے پیش نظر بینک الفلاح نے اٹلس ہونڈا کے اشتراک سے ایک نیا بلاسود اقساطی منصوبہ متعارف کرایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس منصوبےکے تحت صارفین مخصوص ہونڈا موٹر سائیکلیں ماہانہ اقساط میں حاصل کر سکیں گے،اس منصوبے کا مقصد عام صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ایک ساتھ بڑی رقم ادا کیے بغیر موٹر سائیکل خرید سکیں۔
کن موٹر سائیکلوں پر اسکیم دستیاب ہے؟
اس اقساطی منصوبے میں پاکستان کی مشہور اور زیادہ استعمال ہونے والی ہونڈا موٹر سائیکلیں شامل کی گئی ہیں، جن میں ہونڈا سی ڈی 70،ہونڈا سی جی 125،ہونڈا سی جی 150 / سی بی 150 ایف یہ ماڈلز اپنی کم ایندھن کھپت اور پائیداری کی وجہ سے ملک بھر میں مقبول ہیں۔
قیمتیں اور ماہانہ اقساط
بینک الفلاح کے مطابق ان موٹر سائیکلوں کے لیے ماہانہ اقساط درج ذیل ہوں گی۔
ہونڈا سی ڈی 70 کی قیمت تقریباً 1 لاکھ 59 ہزار 900 روپے، ماہانہ قسط تقریباً 26 ہزار 650 روپے،ہونڈا سی جی 125 کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 38 ہزار 500 روپے، ماہانہ قسط تقریباً 39 ہزار 750 روپے،ہونڈا سی جی 150 / سی بی 150 ایف کی قیمت تقریباً 4 لاکھ 59 ہزار 900 روپے، ماہانہ قسط تقریباً 76 ہزار 650 روپےیہ اقساط مختلف مدت کے پلانز کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں، جو عام طور پر 3 ماہ سے 36 ماہ تک ہوتی ہیں۔
منصوبے کی شرائط و ضوابط
بینک الفلاح اور اٹلس ہونڈا کے اس منصوبے میں چند اہم شرائط شامل ہیں اس اسکیم میں کسی قسم کا سود شامل نہیں کیا گیاصارف کو پروسیسنگ فیس ادا کرنا ہوگی،حکومتی ٹیکس بھی لاگو ہوگا،موٹر سائیکل کی فراہمی اسٹاک کی دستیابی پر منحصر ہوگی،یہ پیشکش محدود مدت کے لیے دستیاب ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارفین درج ذیل طریقوں سے درخواست دے سکتے ہیں
بینک الفلاح کی برانچ سے رابطہ
کریڈٹ کارڈ کے ذریعے درخواست
ہیلپ لائن یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے
منظور شدہ ہونڈا ڈیلرشپس کے ذریعے
اسکیم کی اہمیت
یہ منصوبہ خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو مہنگائی کے دور میں ایک ساتھ مکمل رقم ادا نہیں کر سکتے،بلاسود اقساط کی سہولت سے موٹر سائیکل خریدنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے، تاہم صارفین کو اضافی چارجز اور ٹیکسز کا خیال رکھنا ہوگا۔
بینک الفلاح اور اٹلس ہونڈا کا یہ بلاسود اقساطی منصوبہ پاکستان میں موٹر سائیکل خریدنے والوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، اگرچہ اس میں سود شامل نہیں، لیکن پروسیسنگ فیس اور ٹیکسز ادا کرنا ضروری ہوں گے یہ سہولت محدود وقت کے لیے دستیاب ہے اور اس کا انحصار دستیابی اور اہلیت پر ہے۔