ریاست بہار میں ووٹر رجسٹریشن کا بحران، مودی حکومت پر انتخابی سازش کا الزام

ریاست بہار میں ووٹر رجسٹریشن کا بحران، مودی حکومت پر انتخابی سازش کا الزام

بھارتی ریاست بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور نئی ووٹر رجسٹریشن پالیسی نے ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں تمام طبقات بشمول اعلیٰ ذات، اقلیتیں اور انتہائی پسماندہ طبقات شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اپوزیشن نے اس عمل کو مودی حکومت کی جانب سے ’جمہوریت کے لبادے میں انتخابی سازش‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہار میں خفیہ این آر سی؟ اسد الدین اویسی کا انتخابی کمیشن پر سنگین الزام

دی انڈین ایکسپریس کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے اضافی دستاویزات کی سخت شرط نے نہ صرف عام عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، بلکہ اعلیٰ ذات کے ہندو بھی اس انتظامی پیچیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔

ریاست بہار کے مختلف دیہی علاقوں، جہاں اعلیٰ ذات کی اکثریت ہے، وہاں بھی رجسٹریشن میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں۔ ساورتھ پنچایت میں جمع کرائی گئی 2,200 ڈومیسائل درخواستوں میں سے صرف 150 افراد کو سرٹیفکیٹ مل سکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سہولیات کی شدید قلت ہے۔

پنچایت حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ 3,000 سے 4,000 درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، اور واپسی آنے والے ووٹرز کے انتخابی فارم اپڈیٹ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

بہار کے ایک مقامی رہائشی نے کہا کو’روزی کمانا ووٹ دینے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے، لوگ روزگار نہ ہونے کے باعث ریاست چھوڑ چکے ہیں’۔

مزید پڑھیں:پہلگام واقعہ، ڈراما بازی یا مودی سرکار کی سازش، سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے بڑا انکشاف کردیا

مقامی سطح پر بھی اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شکایات عام ہیں کہ بی ایل اوز تعاون نہیں کرتے اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی دستیابی محدود ہے۔ لوگ فوٹو کاپی اور کیفے مالکان کی لوٹ مار سے بھی پریشان ہیں، جنہوں نے اس بحران کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

سابق کانگریسی رہنما کرشنا کانت جھاگڈو نے انتخابی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ خصوصی انتخابی نظرثانی نے آئندہ ریاستی انتخابات کا ماحول خراب کر دیا ہے۔ این ڈی اے نے سیاسی خودکشی کی ہے، کیونکہ اس عمل سے ہر سیاسی جماعت کا ووٹر متاثر ہوا ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق، بہار کی 15 فیصد آبادی جو اعلیٰ ذات اور مسلم ذیلی گروہوں پر مشتمل ہے، سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتہائی پسماندہ طبقات اور دیگر اقلیتیں بھی ووٹ کے حق سے محروم ہونے کے خدشے میں مبتلا ہیں۔

مودی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے ووٹر رجسٹریشن پالیسی کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا شکار بنا کر عوام کے حقِ رائے دہی پر حملہ کیا ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ ساری مشق صرف مودی کے اقتدار کو بچانے اور عوامی شرکت کو محدود کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔

اپوزیشن اور عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ووٹر رجسٹریشن کا یہ غیر منصفانہ اور پیچیدہ عمل فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ ہر شہری کو اپنے ووٹ کا حق آزادانہ طریقے سے استعمال کرنے کا موقع ملے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *