اسلام آباد: پاکستان کی ترسیلات زر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں . مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کو 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہے۔ یہ غیرمعمولی اضافہ گزشتہ مالی سال 2024 میں موصول ہونے والے 30.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8 ارب ڈالر یعنی 26.6 فیصد زیادہ ہے۔
یہ قابلِ ذکر اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اپنی قیادت اور ملکی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی ٹیم کی مؤثر حکمت عملی، سنجیدہ پالیسی سازی اور عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی اس کامیابی کا بنیادی سبب ہے۔
ماہرین کے مطابق، اتنے بڑے پیمانے پر ترسیلات زر کا آنا صرف ایک مالیاتی ریکارڈ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت میں استحکام، اعتماد اور بہتری کی علامت ہے۔ ترسیلات زر نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں بلکہ یہ کسی بھی معیشت کے لیے سب سے پائیدار اور مستحکم ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ترسیلات زر کے یہ تاریخی ریکارڈ دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد، فعال اور بہتر مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا ملک ہے۔ دو سال پہلے جہاں ڈیفالٹ کے خطرات تھے، آج وہاں ترسیلات زر، زرمبادلہ اور مارکیٹ کی بہتری نے ملک کی فنانشل بیلنس شیٹ کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف معاشی لحاظ سے خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہوگا بلکہ مستقبل قریب میں خطے کا معاشی لیڈر بننے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔