پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جا سکتی ہیں،اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف عالمی سیاست میں تبدیلی متوقع ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی متعدد معاشی اور اسٹریٹجک مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے توانائی کے شعبے میں بڑی بہتری کا امکان
ماہرین کے مطابق اگر ایران پر پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو پاکستان کو سستا تیل اور گیس حاصل کرنے کے نئے مواقع مل سکتے ہیںخاص طور پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ فعال ہو سکتا ہے، جس کے تحت ایران نے پاکستان کو طویل مدت کے لیے گیس فراہم کرنا تھی۔ اس منصوبے کی تکمیل پاکستان کے توانائی بحران میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔
تجارت اور سرحدی روابط میں وسعت
پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاک ایران بارڈر ٹریڈ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اس کے ساتھ گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم جیسے بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت کو فروغ مل سکتا ہے، ماہرین کے مطابق پاکستان خطے میں ایک اہم تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
اسپیشل اکنامک زون اور تجارتی اہداف
دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں اسپیشل اکنامک زون کے قیام اور دو طرفہ تجارت کو دس ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، اس پیش رفت سے صنعتی تعاون، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
غیر رسمی تجارت کے قانونی نظام میں تبدیلی
اندازوں کے مطابق ایران سے آنے والا بڑا حجم غیر رسمی تیل اور ڈیزل تجارت کی صورت میں پاکستان میں داخل ہوتا ہے، اگر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو یہ تجارت قانونی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کے ریونیو میں اضافہ ممکن ہے۔
علاقائی کنیکٹیویٹی اور پاکستان کا کردار
ماہرین کے مطابق ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان خطے میں ایک اہم تجارتی پل (گیٹ وے) بن سکتا ہے جہاں ایران کی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ پاکستان کے ذریعے قانونی اور دستاویزی نظام میں منتقل ہو سکتا ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کا امکان
ایران پاکستان گیس منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، جس کے تحت یومیہ بڑی مقدار میں گیس کی فراہمی ممکن ہے۔ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ مالی اور سیاسی چیلنجز بھی موجود رہیں گے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف جنگ کے دوران ایران کی سفارتی حمایت کی بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ا ن کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے جاری دشمنی کے خاتمے کی طرف پیش رفت خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے معاشی تعاون کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستان کو تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران کو گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم سمیت اپنی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کی جبکہ تافتان بارڈر تک متعدد زمینی راستے بھی کھول دیے گئے، جس سے ایران کو متبادل تجارتی اور سپلائی روٹس میسر آئے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران کا بڑا غیر رسمی تجارتی حجم دبئی کے ذریعے ہوتا ہے، اگر پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں تو پاکستان خطے میں ایک اہم تجارتی اور لاجسٹک حب بن سکتا ہے اور ایرانی تجارت کا بڑا حصہ قانونی اور دستاویزی نظام کے تحت پاکستان کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے۔
اس پورے منظرنامے میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ سب سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو 2009 کے معاہدے کے تحت طے پایا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایران نے پاکستان کو طویل مدت کے لیے گیس فراہم کرنا تھی، تاہم پابندیوں اور مالی مسائل کے باعث پاکستان اپنا حصہ مکمل نہ کر سکا۔
پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستان پر اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ملک کو نسبتاً سستی گیس حاصل کرنے کا اہم موقع بھی میسر آ سکتا ہے، جو توانائی بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید برآں کئی دہائیوں سے ایرانی پٹرول اور ڈیزل بلوچستان کے زمینی اور سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر پاکستان آتا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ بڑی مقدار میں ایرانی فیول ملک میں داخل ہوتا ہے۔ اگر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو یہ تجارت قانونی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے پاکستان کو سالانہ تین سو ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل ہونے کا امکان ہے۔