الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور امریکی کمپنی ٹیسلا نے اپنی کاروں کی رینج میں اضافہ کرتے ہوئے بھارت میں اپنی مقبول ترین گاڑی ماڈل Y کا نیا چھ سیٹوں والا ورژن متعارف کرا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آج ہونے والی اس لانچنگ کے ساتھ ہی ٹیسلا نے بھارت میں اپنی محدود پروڈکٹ لائن کو وسعت دی ہے۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس نئے ماڈل کو ’ماڈل وائے ایل کا نام دیا گیا ہے ، اس گاڑی میں سب سے نمایاں تبدیلی اس کے پہیوں کے درمیانی فاصلے میں اضافہ ہے، جس کے باعث اندرونی جگہ کو زیادہ کشادہ بنایا گیا ہے تاکہ چھ افراد باآسانی اور آرام کے ساتھ سفر کر سکیں۔
کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق اس لگژری الیکٹرک کار کی قیمت 62 لاکھ بھارتی روپے، یعنی تقریباً 66,324 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ قیمت کے اعتبار سے یہ ماڈل ٹیسلا کے مہنگے ترین اور نسبتاً سستے ورژنز کے درمیان رکھا گیا ہے، جس سے یہ درمیانی سطح کے پریمیم خریداروں کو ہدف بناتا ہے۔
ان دنوں بڑی اور پریمیم گاڑیوں کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور صارفین اب ایسی ایس یو وی گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو نہ صرف کشادہ ہوں بلکہ جدید سہولیات جیسے ٹچ اسکرین ڈسپلے، سن روف اور جدید سیفٹی فیچرز سے بھی لیس ہوں۔
ٹیسلا کی جانب سے ماڈل Y L کی لانچنگ اسی بدلتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ٹیسلا نے ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اپنی درآمد شدہ ماڈل کے ذریعے بھارتی مارکیٹ میں قدم رکھا تھا، جو اس وقت دنیا کی تیسری بڑی آٹو مارکیٹ تصور کی جاتی ہے تاہم، 100 فیصد درآمدی ٹیکس کی وجہ سے اس گاڑی کی قیمت عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے، جو خریداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ٹیسلا انڈیا کے سربراہ کے مطابق اگرچہ ابتدائی قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی کم آپریٹنگ اور مینٹیننس لاگت کے باعث صارفین 4 سے 5 سال کے عرصے میں گاڑی کی قیمت کا ایک تہائی حصہ بچت کی صورت میں واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ’ماڈل Y L‘ کو ابھی تک امریکہ میں متعارف نہیں کروایا گیا، تاہم اسے گزشتہ سال چین میں لانچ کیا گیا تھا، جہاں اسے صارفین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی اور اس کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔