پنجاب میں طلباء کے لیے امتحانی نظام میں ایک اہم اورمثبت تبدیلی متعارف کروا دی گئی ہے، جسے تعلیمی حلقوں میں بڑے ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس نئے فیصلے کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق طلبہ کو اب 4 کے بجائے 6 امتحانی مواقع دیے جائیں گے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ طلباء چار سال کی مدت کے اندر چھ مرتبہ امتحان دے سکیں گے، جو کہ پہلے کے نظام کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے، اس اقدام کا مقصد ان طلباء کو سہولت دینا ہے جو کسی وجہ سے اپنے نتائج سے مطمئن نہیں ہوتے یا مزید بہتری کے خواہاں ہوتے ہیں۔
یہ پالیسی نہ صرف میٹرک اور انٹر کے طلبہ پر لاگو ہوگی بلکہ اس کا اطلاق تمام تعلیمی بورڈز اور مختلف گروپس پر بھی ہوگا، اس میں او لیول اور اے لیول کے طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے وسیع پیمانے پر طلبہ کو فائدہ پہنچے گا۔
تعلیمی بورڈز کے مطابق اگرچہ امتحانی مواقع میں اضافہ کیا گیا ہے، تاہم طلبہ کو امتحان موجودہ سلیبس کے مطابق ہی دینا ہوگا، اس کا مقصد تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا اور یکسانیت کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق یہ فیصلہ طلبہ کو ذہنی دباؤ سے نکالنے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہتر نتائج حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گا، مجموعی طور پر یہ اقدام صوبے میں تعلیمی بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔