عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی توانائی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں،تازہ تجارتی سرگرمیوں کے دوران خام تیل مزید سستا ہو گیا، جس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق لندن معیار برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 72 اعشاریہ 91 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹرن ٹیکساس انٹرمیڈیٹ69اعشاریہ63 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، اسی طرح ابوظبی معیار مربان خام تیل کی قیمت بھی گھٹ کر 66اعشاریہ 35 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے آغاز کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں اپنی کم ترین سطح پر آ چکی ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی طلب میں سست روی، رسد میں بہتری اور جغرافیائی کشیدگی میں کمی قیمتوں میں گراوٹ کی بڑی وجوہات ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں توانائی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر عالمی قیمتوں میں موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں مزید نیچے آئیں اور روپے کی قدر مستحکم رہے تو حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش بھی مل سکتی ہےتاہم حتمی فیصلہ عالمی منڈی کے رجحانات، درآمدی اخراجات اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات، عالمی معاشی سرگرمیوں کی رفتار اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے فیصلے خام تیل کی قیمتوں کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے، جبکہ پاکستانی عوام کی نظریں بھی آئندہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے اعلان پر مرکوز ہیں۔