پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بعض تارکین وطن کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق دیے گئے بیانات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کے حامی عناصر کو خبردار کرے اور انہیں ایسی سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بعض افراد کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے دیے گئے غیر ذمہ دارانہ بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کا نوٹس لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ بیانات حقائق کے منافی ہیں اور ان کا مقصد غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بلاجواز اور غیر ضروری تبصروں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر پاکستان کا ایک اہم انتظامی خطہ ہے جہاں عوامی نمائندوں کے ذریعے جمہوری نظام کے تحت امور چلائے جا رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق بعض عناصر کی جانب سے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ ایسے افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات پر بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈے سے گریز کریں۔
ترجمان نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک میں موجود ایسے عناصر پر نظر رکھے جو کالعدم تنظیموں یا انتہا پسند نظریات کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت یا اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری نژاد افراد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لہٰذا انہیں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے۔
دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور آزاد جموں و کشمیر کے آئینی و قانونی تشخص کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر اقدامات جاری رکھے گا۔