بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر قائم سلال ڈیم کے دروازے کھول دیے گئے جس کے باعث دریا کے مختلف مقامات پر خطرناک حد تک پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔
ہیڈ قادر آباد پر پانی کا بہاؤ تین لاکھ پانچ ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے مترادف ہے، ہیڈ خانکی پر بھی پانی کی آمد دو لاکھ بیالیس ہزار کیوسک تک پہنچ گئی اور وہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
ہیڈ مرالہ پر نسبتاً نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا جہاں پانی کی مقدار ایک لاکھ دس ہزار کیوسک رہی، چنیوٹ کے قریب دریائے چناب میں چار لاکھ ستاون ہزار کیوسک کا ریلا گزرنے سے سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں سے دس لاکھ کیوسک کا ریلا بھی گزر سکتا ہے۔
چناب نگر میں بھی پانی کی سطح بلند ہو کر چار لاکھ ترسٹھ ہزار کیوسک تک پہنچ گئی جس کے باعث ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا،احمد پور شرقیہ کے بیلی والا پتن کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آگئیں اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
ادھر پاکپتن میں دریائے ستلج نے تباہی مچادی، بند ٹوٹنے سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی اور درجنوں دیہات کا منچن آباد شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔