’پاک چین دوستی کے 75 سال، وزیراعظم شہباز شریف کا ’ہال آف فیم‘ پہنچنے پر شاندار استقبال، گارڈ آف آنر پیش، ویڈیو وائرل

’پاک چین دوستی کے 75 سال، وزیراعظم شہباز شریف کا ’ہال آف فیم‘ پہنچنے پر شاندار استقبال، گارڈ آف آنر پیش، ویڈیو وائرل

وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اہم ترین دورۂ چین کے دوران بیجنگ کے ’ہال آف فیم‘ میں ان کا شاندار اور انتہائی پروقار استقبال کیا گیا ہے۔ چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستانی ہم منصب کا پرتپاک استقبال کیا، جس کے بعد چین کی مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے وزیراعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

استقبالیہ تقریب اور وفود کا تعارف

بیجنگ پہنچنے پر جب وزیراعظم شہباز شریف ملاقات کے لیے عظیم عوامی ہال پہنچے تو چینی وزیراعظم لی چیانگ نے خود ان کا استقبال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے انتہائی گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور ایک دوسرے کے لیے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔ تقریب کے آغاز میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے، جس کے بعد دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے اعلیٰ سطح کے وفود کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا۔

دورے کی دعوت پر شکریہ اور شانشی کان دھماکے پر تعزیت

وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے آغاز میں وزیراعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں چین کے دورے کی اس پرتپاک دعوت پر آپ کا بے حد مشکور ہوں‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ کے عظیم ملک کا دورہ کرنا میرے لیے ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ جب بھی ہم چین آتے ہیں، ہمیں یہاں نئی تعمیرات اور بے مثال ترقی دیکھنے کو ملتی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف 23 مئی سے چین کا اہم سرکاری دورہ کریں گے،چین نے تفصیلات جاری کر دیں

وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں چینی صوبے ’شانشی‘ کی کوئلے کی کان میں ہونے والے حالیہ دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضائع ہونے اور لوگوں کے زخمی ہونے پر چینی عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی کا یقین دلایا۔

پاک چین دوستی کے 75 سال اور تاریخی موڑ

وزیراعظم شہباز شریف نے پاک چین تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان اور چین اپنی لازوال دوستی اور سفارتی تعلقات کا 75 واں سال منا رہے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس تاریخی اور سمندر سے گہری دوستی کی بنیاد دونوں ممالک کے بانی رہنماؤں نے رکھی تھی، جسے آج کی قیادت مزید آگے بڑھا رہی ہے۔

وزیراعظم کا مصروف ترین دن اور آئندہ کی مصروفیات

بیجنگ میں آج کا دن وزیراعظم شہباز شریف کے لیے سیاسی اور سفارتی لحاظ سے مصروف ترین دن ہے۔ شیڈول کے مطابق اہم ترین سرگرمیاں درج ذیل ہیں۔

چینی صدر سے ملاقات

چینی وزیراعظم لی چیانگ سے تفصیلی وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد، وزیراعظم شہباز شریف چین کے صدر شی جن پنگ سے بھی ایک متبادل اور انتہائی اہم ملاقات کریں گے۔

معاہدوں پر دستخط

دونوں وزرائے اعظم پاک چین مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور نئے ترقیاتی معاہدوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

عوامی ہیروز کو خراجِ عقیدت

وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ بیجنگ کے تاریخی ’تیانمن اسکوائر‘ جائیں گے، جہاں وہ چینی عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دیں گے اور پھولوں کا گلدستہ رکھیں گے۔

سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں

دورے کے معاشی ایجنڈے کے تحت وزیراعظم کی چین کے معروف سرمایہ کاروں اور بڑی چینی کمپنیوں کے سی ای اوز سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری پر بات چیت کی جائے گی۔

75 ویں سالگرہ کی تقریب

وزیراعظم اعلیٰ چینی قیادت کے ہمراہ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی خصوصی اور پروقار تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

سی پیک اور معاشی شراکت داری کا نیا رخ

پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال ایک ایسے وقت میں مکمل ہو رہے ہیں جب پاکستان شدید معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ صرف روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل محور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے فیز کا باقاعدہ آغاز اور چینی کمپنیوں کو پاکستان کے صنعتی شعبوں میں منتقل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ دھماکہ انسانیت پر حملہ ہے، دہشتگرد قوم کا حوصلہ پست نہیں کرسکتے،وزیراعظم شہبازشریف

بیجنگ میں چینی صدر اور وزیراعظم کی جانب سے دیا جانے والا یہ پرتپاک استقبال ظاہر کرتا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے باوجود چین کے لیے پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت برقرار ہے۔

کوئلے کی کان کے حادثے پر تعزیت کر کے شہباز شریف نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان چین کے دکھ سکھ کا برابر کا شریک ہے۔ چینی کمپنیوں کے سی ای اوز سے ملاقاتیں اگر کامیاب رہتی ہیں، تو پاکستان میں آئی ٹی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی نئی چینی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

Related Articles