اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کی سخت وارننگ کے بعد مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی کوشش فی الحال روک دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حکومتی اجلاس سے مغربی کنارے کے الحاق کا معاملہ نکال دیا۔
اجلاس کا ایجنڈا ابتدا میں مغربی کنارے کے بڑے حصوں پر اسرائیلی خودمختاری سے متعلق تھا، لیکن بعد ازاں اس کی توجہ فلسطینی علاقوں میں خراب ہوتی ہوئی سیکورٹی صورتحال پر مرکوز کر دی گئی۔
اس دباؤ کے نتیجے میں نیتن یاہو کو الحاق کا معاملہ واپس لینا پڑا،اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ مغربی کنارے کے وسیع حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تجویز پر عمل نہ کریں۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل اسرائیل کے وزیرِ خزانہ نے مغربی کنارے کے تقریباً پانچ میں سے چار حصے کو ضم کرنے کی سفارش کی تھی۔
اس تجویز کے بعد اماراتی حکومت نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا الحاق ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔
اماراتی معاون وزیر برائے امور خارجہ لانا نسیبہ نے بھی واضح کیا تھا کہ اس طرح کی کسی بھی کوشش کو ابراہیمی معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جو اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان تعلقات کی بحالی کی بنیاد بنا تھا۔