پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ پرانی گاڑیاں خریدنے یا بیچنے سے پہلے ای چالان کی جانچ لازمی کریں، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی یا مالی مسئلے سے بچا جا سکے۔
ای چالان چیک کرنا کیوں ضروری ہے؟
پاکستان، خاص طور پر پنجاب میں پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت ایک عام رجحان ہے، لیکن اگر گاڑی پر پرانے ٹریفک جرمانے باقی ہوں تو یہ بوجھ نئے مالک کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بقایا چالان گاڑی کی رجسٹریشن میں رکاوٹ بنتے ہیں، فروخت کے عمل کو پیچیدہ کرتے ہیں اور بعض اوقات قانونی کارروائی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
اتھارٹی نے فروخت کنندگان کو بھی تاکید کی ہے کہ گاڑی بیچتے ہی فوری طور پر ملکیت نئے خریدار کے نام منتقل کروائیں تاکہ آئندہ ہونے والی کسی خلاف ورزی کی ذمہ داری ان پر عائد نہ ہو۔
جرمانے کیسے معلوم کیے جا سکتے ہیں؟
شہری پی ایس سی اے کے آفیشل ای چالان پورٹل پر لائسنس پلیٹ نمبر ڈال کر زیر التواء چالان آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔
حکومت نے سہولت کے لیے ای پے پنجاب ایپ تجویز کی ہے جو اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔ اس ایپ کے ذریعے ادائیگی کے لیے کئی ذرائع فراہم کیے گئے ہیں:
موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ
اے ٹی ایمز
بینک کی شاخیں
موبائل والٹس اور ٹیلی کام ایجنٹس
پی ایس سی اے نے کہا ہے کہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ ای چالان کی تصدیق اور جرمانوں کی ادائیگی کو لین دین کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ خرید و فروخت شفاف اور آسان رہے اور بعد میں کوئی تنازع نہ کھڑا ہو۔