خلیجِ عدن میں بحری قزاقی کا ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پاکستانی سمندری عملے کے اہل خانہ کو شدید پریشانی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
صومالی قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر کو ہائی جیک کر کے اس کے عملے کو یرغمال بنا لیا ہے جن میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں ،یہ واقعہ 21 اپریل 2026 کو پیش آیا جب ٹینکر خلیجِ عدن کے حساس بحری علاقے سے گزر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق مسلح قزاقوں نے اچانک حملہ کر کے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا اور عملے کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
بعد ازاں قزاقوں کی جانب سے 70 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ سامنے آیا ہے جو پاکستانی روپے میں تقریباً دو ارب روپے بنتا ہے۔
کراچی میں موجود مغوی پاکستانیوں کے اہل خانہ نے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اغوا کے چار دن گزر
جانے کے باوجود تاحال حکومتی سطح پر کوئی مؤثر رابطہ یا پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس سے ان کی پریشانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اہل خانہ نے جے ڈی سی کے دفتر میں بھی مدد کے لیے رابطہ کیا جہاں تنظیم کے سربراہ نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قزاقوں نے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔
مغویوں کے اہل خانہ نے وزیراعظم اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی و عملی اقدامات کیے جائیں۔
ایک اہل خانہ نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کے بچوں نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں، جبکہ ایک والد نے کہا کہ ان کا بیٹا ان کا واحد سہارا ہے اور وہ ہر صورت اس کی واپسی چاہتے ہیں۔
واقعہ ایک بار پھر سمندری راستوں کی سکیورٹی اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہےجبکہ پاکستانی خاندان اپنے پیاروں کی محفوظ واپسی کے منتظر ہیں۔