’مذاق انقلاب میں تبدیل‘، بھارت کی ’کاکروچ ‘ جنتا پارٹی کا جنتر منتر پر احتجاجی دھنگل، مودی سرکارخوفزدہ

’مذاق انقلاب میں تبدیل‘، بھارت کی ’کاکروچ ‘ جنتا پارٹی کا جنتر منتر پر احتجاجی دھنگل، مودی سرکارخوفزدہ

بھارت میں قومی سطح کے بڑے امتحانات میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف احتجاجی لہر تیز ہو گئی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے 6 جون کو نئی دہلی کے تاریخی اور احتجاجی مقام جنتر منتر پر ایک بہت بڑے اور وسیع پیمانے پر مظاہرے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اس احتجاج کا بنیادی مقصد نیٹ، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی جیسے ملک کے اہم ترین قومی امتحانات میں ہونے والی مبینہ گڑبڑ پر حکومت سے سخت جوابدہی کا مطالبہ کرنا ہے۔

کارکنان کے لیے رہنما اصول اور ‘ایکس’ پر پیغام

اس بڑے مظاہرے کے پیشِ نظر، کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت نے اپنے تمام حامیوں اور کارکنوں کے لیے باقاعدہ طور پر رہنما اصول یعنی ‘کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا’ کی ایک تفصیلی فہرست جاری کی ہے۔

تنظیم نے اپنے حامیوں پر زبردست زور دیا ہے کہ وہ پورے مظاہرے کے دوران ہر حال میں پرامن، منظم اور متحد رہیں تاکہ نئی دہلی میں امن و امان کا کوئی نیا مسئلہ یا سیکیورٹی کا بحران پیدا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا مودی حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک سرکاری اور اہم ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 جون کی صبح 9 بجے تمام کاکروچ ساتھیوں اور مظاہرین سے جنتر منتر پر ملاقات ہوگی۔

پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ’ہم وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک اب پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس چھوٹے سے مذاق کو ایک بڑے عوامی انقلاب میں بدل دیا جائے‘۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک پرامن اور محبت بھرے احتجاج کے ساتھ دلی کی سڑکوں پر نکلنے کے لیے مکمل تیار ہو جائیں۔

بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران قومی سطح کے تعلیمی اور ملازمت کے امتحانات کا نظام شدید تنازعات اور عوامی تنقید کی زد میں رہا ہے۔

نیٹ اور سی یو ای ٹی جیسے امتحانات، جن پر لاکھوں طالب علموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے، ان میں پیپر لیک ہونے، نمبروں میں ہیر پھیر اور انتظامی نااہلی کے متعدد مبینہ واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ان امتحانات میں بیٹھنے والے کروڑوں نوجوانوں اور ان کے خاندانوں میں شدید مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں اور مختلف طلبہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ موجودہ وزارتِ تعلیم ان قومی امتحانات کی شفافیت کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب براہِ راست وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ سڑکوں پر گونج رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی کارکنوں کے لیے ہدایات

سوشل میڈیا پر جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے دلی اور قریبی ریاستوں کے حامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ساتھ پینے کا پانی، ضروری شناختی دستاویزات اور پرامن احتجاجی پلے کارڈز لے کر آئیں، لیکن کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز مواد یا ہتھیار لانے پر مکمل پابندی ہوگی۔

نئی دہلی کی انتظامیہ نے اس احتجاج کے پیشِ نظر جنتر منتر اور اس کے گردونواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر نہ ہو۔ تنظیم کے رضاکاروں کو بھی دلی پولیس کے ساتھ تعاون کرنے اور کسی بھی شرپسند عنصر پر نظر رکھنے کی خصوصی ذمہ داری دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:مودی حکومت نوجوانوں کی تحریک سے ڈر گئی، کاکروچ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

اگر اس صورتحال اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بیانیے کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے، تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ امتحانات کا یہ تنازع اب محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑا سیاسی اور عوامی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ پارٹی کی جانب سے ’مذاق کو انقلاب میں بدلنے‘ کا نعرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کے اندر نظام کے خلاف غصہ اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔

وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر کے مظاہرین حکومت کو بیک فٹ پر لانا چاہتے ہیں۔ نئی دہلی کے قلب یعنی جنتر منتر پر 6 جون کو صبح 9 بجے ہونے والا یہ احتجاج یہ ثابت کرے گا کہ کیا یہ تنظیم نوجوانوں کی اس بکھری ہوئی تحریک کو ایک منظم سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔

اگر یہ مظاہرہ پرامن رہتا ہے، تو یہ وزارتِ تعلیم پر اصلاحات اور جوابدہی کے لیے دباؤ بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔

Related Articles